رمضان المبارک اور اصلاح معاشر۔۔۔پروفیسر حافظ محمد سعید

رمضان المبارک…….. سعادتوں، برکتوں، رحمتوں اور مغفرتوںوالا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اور پوری امت مسلمہ کو اس مہینہ کا حق ادا کرنے اور وہ عبادت جو اللہ کو پسند ہو ۔۔۔کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ اس رمضان المبارک کو پاکستان اور امت مسلمہ کیلئے برکتوں، سعادتوں، کامیابیوں، اور فتوحات والا بنا دے۔ اہل ایمان میں سے کچھ وہ ہیں جو بڑی شدت و چاہت سے اس مہینے کا انتظار کرتے ہیں۔ جیسے جیسے برکتوں والا یہ مہینہ قریب آتا ہے اہل ایمان کی خوشی و مسرت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور خوش قسمت لوگ اس کی بیکراں رحمتوں سے جھولیاں بھرتے ہیں۔ یہ وہ عظیم مہینہ ہے …. جس کے استقبال کی تیاریاں اللہ کے نیک بندے صرف زمین پر ہی نہیں بلکہ آسمانوں پر فرشتے بھی اس کے استقبال کی تیاریاں کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ ”رمضان کیلئے جنت کو شروع سال سے اگلے سال تک سجایا جاتا ہے۔ پھر جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو ایک خاص ہوا عرش بریں کے نیچے سے جنت کے پتوں میں سے ہو کر گزرتی ہوئی حوروں تک پہنچتی ہے۔ تب حوریںکہتی ہیں اے ہمارے پروردگار ہمارے لیے اپنے بندوں میں سے ایسے جوڑے بنا دے جن سے ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو اور ان کو ہمارے ذریعے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں جو پورا مہینہ کھلے رہتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ سارا مہینہ ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولاجاتا ۔ شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ آسمان سے منادی کرنے والا آواز دیتا ہے۔
”اے بھلائی چاہنے والے جلد بھلائی کی طرف آ…….. اور اے برائی کرنے والے برائی سے رک جا!۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو آگ سے نجات دیتے ہیں اور یہ ہر رات (سارا مہینہ) ہوتا ہے۔“ رمضان المبارک کا یہ اہتمام، اکرام اور استقبال وہ ہے جو فرشتے آسمانوں پر کرتے ہیں جہاں تک زمین پر استقبالِ رمضان کا تعلق ہے نبی اکرم ﷺ اس ماہ مبارک کے آغاز میں بڑا اہتمام فرماتے تھے۔ روزہ آپﷺ کا پسندیدہ عمل تھا۔ فرضی روزوں کے علاوہ آپ کثرت سے نفلی روزے بھی رکھتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی ترغیب دیتے۔ ان کو خصوصی توجہ دلاتے کہ برکتیں سمیٹنے اور گناہوں سے اپنے آپ کو پاک و صاف کرنے والا، اللہ کی عبادت کرکے، روزے رکھ کے، راتوں کو قیام کر کے، قرآن کے ساتھ تعلق قائم کر کے، تلاوت کر کے اور صدقہ و خیرات کر کے اللہ کو راضی کرنے کا مہینہ آگیا۔
اس وقت بہت سارے مسائل اور مصائب نے امت مسلمہ کو گھیر رکھا ہے۔ دشمنوں کی خوفناک سازشیں اور مسلمان ملکوں کے بے پناہ اندرونی مسائل ہیں جن پر قابو پانا بظاہر ناممکن ہو چکا ہے لیکن اللہ کے ساتھ تعلق و ربط مضبوط کر کے ہم ان مسائل و معاملات پر قابو پا سکتے ہیں اور دشمنوں کی سازشوں کا جواب دے سکتے ہیں۔ اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ اور طریقہ رمضان ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم رمضان کا استقبال ایمانی جذبوں، خوش گوار امیدوں، اور بھرپور دعاﺅں کے ساتھ کریں کہ اے اللہ! توفیق سب تیری طرف سے ہے کہ ہم اپنی اصلاح کر سکیں، تیری رحمتیں، برکتیںاور سعادتیں اپنے دامن میں بھر سکیں۔
لوگ دنیوی اعتبار سے رمضان المبارک کی آمد کا بڑا اہتمام کرتے ہیں۔ گھروں میں مہینے بھر کی اشیاءخوردونوش کی لمبی چوڑی لسٹیں بنتی ہیں، بھرپور خریداری کی جاتی ہے، بازاروں میں رش بڑھ جاتا ہے، حکومت بھی لوگوں کی سہولت کی خاطر سستے رمضان بازار لگاتی ہے۔ ان سب باتوں کی اہمیت اپنی جگہ …. ان سے انکار ممکن نہیں۔ رمضان المبارک بطریق احسن گزارنے کیلئے ان ضروریات زندگی کا ہونا ضروری ہے۔
لیکن کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ کچھ ضروریات اور لوازمات…. ان سے بھی زیادہ ضروری ہیں۔ وہ یہ کہ رمضان المبارک میں عبادات کی ترتیب کیا ہو گی….؟ گھر میں روز کتنے سیپارے پڑھے جائیں گے….؟ نوافل کتنے ادا کئے جائیں گے؟ قیام اللیل کا اہتمام کیسے ہو گا؟ بچوں کی اصلاح کیسے ہو گی؟ گھر کا ماحول کیسے اسلامی بنایا جائے گا؟ ان کو روزہ رکھنے کی ترغیب کیسے دلائی جائے گی؟ رب کو کیسے منایا جائے گا؟ گناہوں کو کیسے بخشوایا جائے گا؟ رمضان کا حق کیسے ادا ہو گا اور روزہ کو بامقصد کیسے بنایا جائے گا؟
ہر شخص اپنے انداز، اپنے حساب اور اپنے طور طریقے کے مطابق رمضان المبارک کا اہتمام و استقبال کرتا اور اس کے فائدے سمیٹتا ہے۔ ذخیرہ اندوز…. ذخیرہ اندوزی کر کے اشیاءخوردونوش کی مصنوعی قلت پیدا کرتا ہے۔ دکاندار قیمتیں بڑھا کر مالی فائدے سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے، کپڑے کا کاروبار کرنے والا سال بھر کی کمائی ایک مہینے میں کر لینے کی فکر میں رہتا ہے، خواتین چاہتی ہیں کہ سحروافطار میں کھانے پینے کا پرتکلف انتظام ہو۔ ان میں سے کوئی ایک مقصد بھی رمضان المبارک کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کیا ہم نے رمضان کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تزکیہ نفس اور اپنا محاسبہ کیا…. یا نہیں؟ کیا کسی نے سوچا اور اس بات کا جائزہ لیا کہ اس کے ایمان کا لیول کتنا بڑھا؟ ایمان کتنا مضبوط ہوا؟ رب کے ساتھ تعلق کتنا بڑھا؟ بیوی بچوں کی کتنی اصلاح ہوئی؟ اور اہل خانہ کو رب کا کتنا قرب حاصل ہوا؟
رمضان المبارک کا مقصد یہ ہے کہ انسان کا تزکیہ ہو، معاشرہ کی اصلاح ہو، اللہ کا قرب حاصل ہو، عبادات میں پختگی ہو، جنت کی طلب ہو، جہنم سے نفرت ہو، تلاوت میں باقاعدگی ہو، رزق حلال کی چاہت ہو، رزق حرام سے اعراض ہو، تقویٰ کے حصول کا جذبہ ہو، ایمان کی لذت و حلاوت ہو، ہاتھ میں سخاوت ہو، سچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت ہو، مسجد سے الفت ہو ۔اس لئے کہ رمضان کے مہینے میں کثرت سے فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کو تلاش کرتے ہیں کہ کون نماز پڑھ رہا ہے؟ کون تلاوت کر رہا ہے؟ کون جہاد کر رہا ہے؟ کون صدقہ و خیرات کر رہا ہے؟ کون امر بالمعروف اور کون نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے رہا ہے؟ کون اپنے گھروں کی اور معاشرے کی اصلاح کر رہا ہے؟ کون اپنے بچوں کو نیکی کی تلقین کررہا اور کون روزے رکھ رہا ہے….؟
یاد رکھئے! انسانی زندگی کا سب سے خطرناک مرحلہ اور لمحہ وہ ہوتا ہے …. جب کمزوریوں، غلطیوں اور گناہوں بھری زندگی انسان کا معمول بن جائے، انسان نیکی سے محبت اور برائی سے نفرت کا احساس و شعور کھو بیٹھے اور گناہ…. کو گناہ سمجھنا چھوڑ دے۔ یہ صورت حال یقینی طورپر انسان کی تباہی و بربادی اور جہنم کی سوداگری کا باعث بنتی ہے لیکن جب انسان غلطی کو …. غلطی اور گناہ…. کو گناہ سمجھے تو اس کو تائب ہونے اور اصلاح کی توفیق بھی نصیب ہو جاتی ہے۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ روزہ صرف اس شخص کا اللہ کے ہاں قابل قبول ہے جو رمضان المبارک میں اپنی ذات، اپنے گھر، اپنے بیوی بچوں، کاروبار، معاملات اور معمولات کی اصلاح کر لے۔ اصلاح کیلئے رمضان سے زیادہ اچھا اور بہتر مہینہ کوئی نہیں۔ رمضان المبارک جہاں نزول قرآن اور گناہوں کی بخشش کا مہینہ ہے وہاں یہ اسلامی تہذیب کا مظہر، اخوت و ہمدردی، ایثار وقربانی، جودوکرم، صبروتحمل ، جہاد و قتال اور افرادومعاشرہ کی اصلاح کا مہینہ بھی ہے۔ جب انسان سحری سے افطاری تک کھانے پینے اور فواحش ومنکرات سے بچتا ہے تو اس میں صبرو تحمل پیدا ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں روزے کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ تم تقویٰ اختیار کرو، تقویٰ انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے۔ رمضان میں گناہ کرنا مشکل اور نیکی کرنا آسان ہو جاتاہے۔ معمولی نیکی کا اجر بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ نیکی کرنا اور گناہ سے بچنا …. یہ عمل افراد اور معاشرہ کی اصلاح کی بنیاد ہے۔ یاد رکھئے! جو بندہ اپنی ، اپنے گھر اور اپنے بیوی بچوں کی اصلاح کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ ایسے بندے کو نیکی کے بڑے بڑے کام کرنے کی توفیق عطا کرتا اور اسے اپنے دین کیلئے منتخب کر لیتا ہے۔
دل میں آرزوئیں مچلتی ہیں کہ پاکستان اسلام کا قلعہ بن جائے۔ دنیا میں اسلام غالب آجائے اور کفر مٹ جائے۔ اس مقصد کیلئے پرجوش تقریریں ہوتیں، ولولہ انگیز نعرے لگتے اور پاکستان کو اسلامی ملک بنانے کی باتیں ہوتی ہیں۔یہ سب کوششیں قابل قدر ہیں لیکن یاد رکھئے! اسلام نافذ کرنے کا پہلا مرحلہ انسان کی اپنی ذات اور اس کا گھر ہے۔ آپ کا پاکستان…. وہ گھر اور چاردیواری ہے جس میں آپ اپنے بیوی بچوں سمیت رہ رہے ہیں اور جہاں آپ کا حکم چلتا ہے۔ اگر آپ نے اپنی ذات، گھر کی چاردیواری اور بیوی بچوں پر اسلام نافذ کر لیا تو روزے کا مقصد پورا ہو گیا اور پھر وہ وقت بھی دور نہیں ہو گا جب پاکستان میں اسلام کے نفاذ کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو جائے گا۔
رمضان المبارک شروع ہوگیا ہے۔ آئیے! اپنی اصلاح ، گھروں کا ماحول اسلامی بنانے، گناہوںاور سیاہ کاریوں سے مکمل کنارہ کشی کا عہد کریں۔ گناہ…. کیا ہے….؟ جو اللہ کو پسند نہیں وہ گناہ ہے۔ جو اللہ کو پسند ہے وہ اس کی رضا اور اس کا دین ہے۔ دین مکمل ہے۔ اللہ نے اپنی پسند اور ناپسند کی کوئی نئی چیز دنیا میں نہیں بھیجنی۔ نہ کوئی نئی وحی ہے اور نہ نیا حکم ہے۔ جو آنا تھا وہ محمد ﷺ پر آچکا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام احکام کو اپنے اوپر اور اپنے صحابہ پر نافذ کر کے دین کی عملی شکل دنیا کے سامنے پیش کر دی۔ اللہ کو دین کا وہ نقشہ پسند ہے جو اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے۔ اس نقشے پر عمل کرتے ہوئے مجاہدین اسلام صحرائے عرب سے طوفان کی طرح اٹھے، موجوں کی طرح دنیا پر چھا گئے اور اسلام کا پرچم دنیا پر لہرا دیا۔ آج امت مسلمہ اور پاکستانی قوم کو انہی جذبوں کی ضرورت ہے۔پاکستان 27رمضان المبارک 1366ھ کو انہی جذبوں کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ اگر رمضان کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس ملک ۔۔۔اور اللہ کی دی ہوئی نعمت …. آزادی کی قدر کرتے تو ہمیں ان مسائل و مصائب کا سامنا نہ کرنا پڑتا جن سے آج ہم گزر رہے ہیں۔ ہم نے آزادی کی قدر کی اور نہ پاکستان کی۔ انگریز کی غلامی سے نکلے تو امریکہ کی غلامی میں چلے گئے۔ غلامی بہت بڑی لعنت ہے ، انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس کے بہت زیادہ نقصانات ہیں۔
رمضان المبارک کا جس طرح قرآن مجید سے تعلق ہے ایسے ہی اس کا جہاد سے بھی گہرا تعلق ہے۔ رمضان المبارک…….. جہاد ……..اور فتوحات کا مہینہ ہے۔ غزوہ بدر اور فتح مکہ کے عظیم واقعات رمضان المبار ک میں پیش آئے۔ غزوہ بدر17رمضان کو برپا ہوا اور اسی روز کفر کا غرور ٹوٹا تھا۔ جہاد کی برکت سے جس طرح اہل مکہ کی طاقت پاش پاش ہوئی ایسے ہی جہاد کی برکت سے اب امریکی غلامی کا دور بھی ختم ہو رہا ہے۔ کفرکا نظام بدلنے کو اور اسلام کا سویرا طلوع ہونے کو ہے۔ وہ لوگ امت مسلمہ اور پاکستانی قوم کے محسن ہیں جنہوں نے جہاد کے میدانوں میں کفر کو ناکوں چنے چبوائے۔ اسلام دشمنوں کا اطمینان اس بات پر ہے کہ ہم افغانستان سے چلے جائیں گے مگر مسلمانوں کو ان کے دین پر نہیں رہنے دیں گے۔ ہمارا اطمینان اس بات پر ہونا چاہیے کہ ہم نے محمدی راستے، طریقے اور جہادی منہج پر رہنا ہے۔ جہاد کو جاری رکھنا ہے۔ اپنی چال ڈھال، چہرہ مہرہ، اندازو اطوار اور گفتار وکردار کو محمدی بنانا ہے۔ انسان کا چہرہ…. اس کی پہچان اور شناخت ہوتا ہے۔ جب انسان رمضان کے تقاضوں کو کما حقہ سمجھ لے گا تو جہاد سے محبت ہو گی، چہرے محمدی بن جائیں گے، سنت سے سجیں گے تب فتوحات اور کامیابیوں کا دور شروع ہو گا اور کلچر کی تبدیلی کا آغاز ہوگا۔بسا اوقات نماز پڑھنی آسان ہوتی ہے مگر داڑھی رکھنا اور مسلمان عورت کیلئے پردہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہمارے بعض بھائی داڑھی کو اور مسلمان بہنیں پردہ کو معمولی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ دونوں کام معمول نہیں بلکہ بہت بڑے ہیں۔ آپ دیکھ لیں یورپ میں نماز پڑھنے پر پابندی نہیں لیکن مسلمان عورت کے نقاب کرنے پر پابندی ہے۔ ایسی خبریں اخبارات میں چھپ چکی ہیں کہ ایک داڑھی والا مسلمان مرد ہوائی جہاز میں سوار ہوا تو پائلٹ نے ہوائی جہاز اڑانے سے انکار کردیا کہ جب تک اس داڑھی والے مسلمان کو نہیں اتارا جائے گا میں جہاز نہیں اڑاﺅں گا۔ اس لئے میرے بھائیو اور بہنو……..! داڑھی اور حجاب کو معمول نہ سمجھو بلکہ یہ بہت بڑے کام ہیں۔ بڑے کاموں کا اجر بھی اللہ کے ہاں اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ رمضان المبارک بھی عظیم اجر والے کاموں میں سے ہے سو…. آﺅ اپنی ذات سے لے کر، بیوی بچوں، گھر، معاشرہ کی اصلاح، پاکستان کے استحکام اور امت مسلمہ کے اتحاد کیلئے سوچو، پختہ عزم اور ارادے کرو، اللہ سے دعائیں مانگو، صحابہ کرام کا سا ایمانی و جہادی جذبہ پیدا کر لو، اپنے رب کو راضی کر لو…. پھر دیکھنا بحروبر، خشکی و تر، مشرق ومغرب اورشمال وجنوب میں تمہارا حکم چلے گا، کوئی تمہارے حکم سے سرتابی نہیں کر سکے گا، پھر افغانستان اور عر اق پر فوج کشی نہیں ہو گی، قبلہ اول پر اغیار کا قبضہ نہیں ہوگا، بھارت، کشمیر، برما اور دیگر خطوں کے مسلمانوں کا خون پانی کی طرح نہیں بہایا جائے گااور ان کی عزتوں کو پامال نہیں کیا جائے گا۔
یادرکھو! تبدیلی کا عمل ہمیشہ افراد کی اصلاح سے شروع ہوتا ہے۔جس طرح ریت کے ذرات مل کر پہاڑ اور قطرات مل کر دریا بنتے ہیں ایسے ہی افراد سے مل کر معاشرہ، معاشرے سے جماعت اور جماعت سے قوم بنتی ہے۔ لہذا بنیادی کام افراد کی اصلاح ہے۔ افراد کی اصلاح کا بہترین ذریعہ روزہ ہے۔ ترتیب کے اعتبار سے روزہ اسلام کا پانچواں رکن ہے مگر اثر آفرینی اور حیرت انگیز خصوصیات کی وجہ سے اس کا مقام بہت بلند تر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ”بنی آدم کے ہر نیک عمل کا ثواب زیادہ کیا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نیکی کا ثواب دس سے سات سو گنا تک ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ میرے ہی لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا کیوں کہ وہ اپنی خواہشیں اور اپنا کھانا صرف میرے لئے ہی چھوڑتا ہے۔“
اسلام کے پہلے چار بنیادی ارکان…. کلمہ شہادت، اقامت الصلوٰة ، زکوٰة اور حج ان سب کا تعلق انسان کے ظاہر کے ساتھ ہے مگر روزہ ریاکاری اور دکھلاوے سے قطعی مبرا، سراپا اخلاص، عابد و معبود اور ساجد ومسجود کے درمیان ایک راز ہے۔ دیگر عبادات کی طرح روزے کی کوئی ظاہری ترکیب موجود نہیں ۔ روزہ ایک پوشیدہ ومخفی عمل ہے مگر وہ کون سا جذبہ ہے جو سخت دھوپ ، شدید ترین حبس اور گرمی کی شدت میں مسلسل 16گھنٹے انسان کو تنہائی اور خلوت میں بھی پانی کا ایک گھونٹ حلق سے نیچے اتارنے سے مانع رکھتا ہے۔ یہ جذبہ…. درحقیقت اللہ کا ڈر، اس کا خوف وتقویٰ اور اس کے سامنے جوابدہی کا احساس ہے۔ جب انسان کے دل میں اللہ کا ڈر پیدا ہو جائے تو اس کے لئے بڑے بڑے گناہوں سے بچنا اور فواحش و منکرات کو ترک کرنا کچھ مشکل نہیں ہوتا۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ روزہ حلال چیزوں کو ترک کرنے کا نام ہے، جب انسان ایک ماہ مسلسل حلال اشیاءکو ترک کرنے کی پریکٹس کرلے تو اس کے لئے حرام اشیائ سے بچنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ اللہ کے حکم پر حلال اشیاءکو ترک نہ کرنے والا حرام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹ اور برائی سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔“
رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ احادیث میں مذکور ہے کہ جبرائیل امین علیہ السلام رمضان میں ہر رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے آتے اور قرآن کا دورکرتے تھے۔ جب قرآن کا دور مکمل ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوتے۔ خوشی و مسرت کا اظہار آپ کے چہرہ اقدس پر نمایاں ہوتا۔ تلاوت قرآن مجید کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں صدقہ بھی کثرت سے کرتے۔ یاد رکھئے! رمضان صدقے کا مہینہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جفت (دو دو چیزیں) صدقہ کرتا ہے جنت کے فرشتے اسے آٹھوں دروازوں سے آواز دیں گے کہ تو ہمارے دروازے سے داخل ہو جا۔ سبحان اللہ……..! کیا فضیلت اور برکت ہے رمضان کے مہینے کی اور موسموں کی شدت کو برداشت کرنے کی ۔مشقت جتنی زیادہ ہو اس کا اجر بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ گرمیوں کے لمبے دنوں میں روزہ رکھنا زیادہ مشقت اور تکلیف کا باعث ہوتاہے۔سارا دن گرم ہوا چلتی ہے ،آسمان سے گویا آگ برستی ہے ،زمین تنور کی طرح تپ جاتی ہے۔ پیاس کی شدت سے زبان خشک ہو جاتی ہے۔حرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو گرمیوں کے دنوں میں اس کی (اللہ کی) رضا کیلئے پیاسا رہے گا (روزہ رکھے گا)۔ وہ (اللہ) اسے اس دن (قیامت کے دن)پلائے گا جب پیاس شدید تر ہو گی۔ اس لئے گرمی کے روزوں سے گھبرانا اور پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کی گرمی جہنم کی گرمی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ بھائیو یادرکھو! اگر دنیا کی گرمی جھیل کر آخرت کی گرمی سے نجات مل جائے تو یقینا یہ سودا مہنگا نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں