فضائل رمضان المبارک۔۔۔مفتی محمدادریس المدنی

رمضا ن المبارک کا چا ند نظر آتے ہی مسلما نو ں میں خو شی کی لہر و وڑجا تی ہے ۔ بچے بو ڑ ھے اور جو ان سب ہی عبا دا ت کا اہتمام کر تے ہیں خصوصاََروزے بڑ ے شو ق سے ر کھتے ہیں ۔ بچے بھی والد ین سے اصرار کر تے ہیں کہ ہمیں سحر ی کے وقت بید ار کریں تا کہ ہم روزے رکھ سکیں ر مضا ن کے روزے اللہ تعالیٰ نے مسلمانو ں پر فر ض کیے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے ایمان والو ں تم پر روزے فر ض کر دیئے گئے جس طر ح تم سے پہلے لو گو ں پر رو زے فر ض تھے تا کہ تم متقی (پر ہیز گا ر )بن جا و¿ ۔دوسرے مقام پر فر مایا جوتم میں سے رمضان کا مہینہ پا لے وہ اس کے روزے رکھے ۔روزے اللہ رب العز ت نے 2ہجر ی میں فر ض کیے ۔رو زے کو عر بی میں صوم کہا جا تا ہے ۔ جس کا معنی ہے رک جا نا۔ عبا دت کی نیت سے صبح صا دق سے غر وب آفتاب تک کھا نے پینے اور جماع سے رکے رہنے کا نام روزہ ہے ۔ مسلمان شدید گر می میں بھی روزہ نہیں چھو ڑتے اللہ کو ر ا ضی کر نے کے لئے بھو ک اور پیا س بر د اشت کر تے ہیں ۔وہ جانتے ہیںیہ ہمارے اللہ کا حکم ہے ہم اپنے اللہ کا حکم مانیں گے تو سر خرو ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے روزے دار بندوں کے لیے بڑ ا مقام رکھا ہے،نبی uنے فرمایا جس شخص نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضا ن کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے سا بقہ سا رے گنا ہ معا ف فر مادیتے ہیں ۔(بخا ری و مسلم )
حضرت ابو سعید خد ری tبیا ن فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ e نے ار شاد فر مایا جو شخص اللہ کی ر اہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعا لیٰ اس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اس شخص کے چہر ے کو جہنم کی آگ سے ستر سا ل دور کر دیتاہے (بخا ری و مسلم )
نبی علیہ السلام نے فر مایا روزہ جہنم کی آگ سے ڈ ھا ل ہے جس طر ح ڈھا ل کے ذریعے دشمن کے حملہ سے بچا جا تا ہے اسی طر ح روزہ کے ذریعے انسا ن جہنم کی آ گ سے محفوظ رہے گا ۔ (بخا ری و مسلم )
رو زہ رکھنے سے انسان کے اند ر صبر کا ملکہ پید اہو جا تا ہے ۔نبی uکا فر ما ن ہے صبر کا بد لہ اللہ تعا لیٰ نے جنت رکھا ہے ۔
مسلم شریف میں حدیث ہے کہ ابن آدم کے تمام نیک اعمال کو بڑھا یا جا تا ہے ۔انسان کی ایک نیکی کو دس گناسے سا ت سو گنا تک بڑ ھا یا جا تا ہے سوائے روزے کے کہ اس کے (اجر کا معا ملہ مختلف ہے) اللہ تعا لیٰ فرماتے ہیں روزہ میر ے لیے ہے او راس کا بدلہ بھی میں ہی دو نگا کیو نکہ بند ے نے کھا نا پینا اور دیگر خواہشات نفسیاتی میر ی وجہ سے چھو ڑی ہیں ۔ انسان کے تما م اعمال میں سے روزہ ہی وہ واحد عمل ہے جس کے با رے اللہ تعا لیٰ نے فرما یا ہے کہ روزہ میر ے لیے ہے اور میں ہی اس کا بد لہ دونگا ۔
امام کا ئنات e نے ارشاد فرمایا روزے دار کے لیے خو شی کے دو مواقع ہیں جس میں وہ خو ش ہو تا ہے ۔ اولاََ۔۔۔۔۔افطا ری کے وقت روزہ افطار کر کے خوش ہو تا ہے کہ اللہ نے ا سے ر وزہ مکمل کرنے کی توفیق سے نو ازا، رزق عطاکیا جس سے میں روزہ افطا ر کیا خوشی سے کہتاہے پیا س بجھ گئی انتڑیاں تر ہو گئیں اور ان شاءاللہ اجر مل گیا ۔ ثانیاََ۔۔۔۔۔دوسری خو شی روزے دار کے لیے یہ ہے کہ جب وہ اللہ تعا لیٰ سے ملاقات کر کے ر وزے کا انعام حاصل کرے گا۔روز ے دار کے لیے اللہ تعا لیٰ نے بڑے انعامات رکھے ہیں ۔ جس کا اند ازہ اس سے لگا یاجاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزے داروں کے استقبال کے لیے ایک خا ص در وازہ رکھا ہے جس کا نام ہے باب الریان(روزہ داروں کادروازہ در وازہ) اس در وازے سے صر ف روزے دار ہی جنت میں داخل ہو ں گے جب روزے دار جنت میںداخل ہو جا ئیں گے تو در وازہ نبد کر دیا جا ئے گا ۔
روزے داروں کے سا تھ اللہ تعا لیٰ نے اپنی خاص محبت کا اظہا ر فر مایا ہے جب اللہ تعا لیٰ کی عبا دت میں کسی بند ے کی حا لت پر اگندہ ہو جا تی ہے اللہ تعا لیٰ کو اپنے بند ے کی وہ حالت بڑی پسند آتی ہے ۔
جس طرح کو ئی آدمی مید ان جہا د میں شہید ہو جا تاہے اس کے جسم سے خون نکلنا ہے ا س کے سا تھ مٹی مل جا تی ہے دیکھنے والے کو اس کی حا لت اچھی نہیں لگتی لیکن اللہ رب العزت کو بندے کی یہ حا لت اتنی پسند ہے کہ قیامت کے دن شہید اللہ کی با ر گاہ میں ا س حال میںپیش ہو گا کہ اس کے جسم سے خون بہ رہا ہو گا دیکھنے میں خون محسوس ہو گا لیکن اس سے خوشبو کستوری کی آرہی ہو گی اسی طرح انسا ن کے منہ سے آنے والی بو لو گوں کو اچھی محسوس نہیں ہوتی لیکن روزے دار کے منہ کی بو اللہ ر ب العزت کو کستوری کی خوشبوسے بھی زیا دہ پیا ری ہے۔
بڑے ہی خوش قسمت ہیں وہ لو گ جن کی زند گی میں رمضان آیا ہمیں چا ہئے کہ اس مہینے میں زیا دہ سے زیا دہ نیکیا ں کریں دن کو روزہ رکھیں رات کوقیا م کر یں۔ نبی eکا فرمان ہے روزہ اور قر آن دونو ں ہی قیامت کے دن بندے کے حق میں سفارش کر یں گے۔ روزہ کہے گااے اللہ میں نے اس بندے کو دن کے اوقات میں کھا نے پینے اورخواہشات سے رو کے رکھا میں اس کی سفارش کر تا ہوں۔ قرآن کہے گا اے اللہ میںنے اس بندے کو رات سونے سے روکے رکھا میں اس کی سفا رش کر تاہوں ۔نبی uنے فر مایا دونوںکی سفارش قبول کی جا ئے گی ۔ یعنی اللہ تعا لیٰ ر وزے اور قر آن کی سفا رش قبول کر کے بندے کو جنت عطافرمادے گا اورجہنم سے دور کر دے گا ۔اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میںداخل کر دیا گیا وہ کا میا ب ہو گیا اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضا ن المبا رک کے روزے رکھنے کی توفیق عطافر مائے۔ (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں