رمضان، روحانیت اور حیوانیت…امیر حمزہ

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو حیوانیت اور روحانیت کا مرکب ہے۔ اس کی حیوانیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولا کریم فرماتے ہیں ”زمین پر چلنے والی جو بھی مخلوق ہے اور اپنے پروں کے ساتھ اڑنے والے جو پرندے ہیں سب تمہاری طرح امتیں ہیں۔‘‘ (الانعام:38)۔ اللہ تعالیٰ نے جس سورت میں تمام جانوروں کو امتیں قرار دیا اس سورت کا نام ”الانعام‘‘ ہے۔ جس کا معنی چوپائے ہیں، یعنی گائے، اونٹ اور بھیڑ بکریاں وغیرہ۔ ثابت ہوا انسانی جسم اپنی ساخت اور بناوٹ کے اعتبار سے اسی طرح کا ایک حیوانی جسم ہے جس طرح باقی اجسام ہیں۔ زمین پر چلنے والے یا فضائوں میں اڑنے والے جانور سانس بھی لیتے ہیں۔ کھانا کھاتے ہیں۔ پانی پیتے ہیں۔ گوشت پوست کے حامل ہیں۔ پھیپھڑے، دل، گردے، معدہ، آنکھیں، کان، ناک، سر رکھتے ہیں۔ ان کی رگوں میں خون چلتا ہے جو زندگی کا باعث ہے۔ ان کے دانت بھی ہیں۔ کچلیاں ہیں۔ درندوں کی داڑھیں بھی ہیں۔ سر اور جسم پر بال بھی ہیں۔ ان کے جوڑے جوڑے بھی بنتے ہیں۔ بچے بھی پیدا کرتے ہیں۔ ان کو دودھ بھی پلاتے ہیں۔ یوں ان کی نسلوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس اعتبار سے انسان بھی ایک جسم رکھتا ہے اور سارے اہم اعضا کا حامل ہے۔ کھاتا پیتا ہے۔ سانس لیتا ہے۔ دانت، داڑھیں اور کچلیوں سے گوشت کھاتا ہے۔ سبزی بھی کھاتا ہے۔ جوڑا بناتا ہے۔ گھر بناتا ہے۔ بچے پیدا کرتا ہے اور اپنی نسل کو بڑھاتا ہے۔ تمام جاندار بھی مر کر مٹی میں مل جاتے ہیں۔ انسان بھی مر کر مٹی میں مل جاتا ہے۔ یہ اس کی حیوانی حیثیت ہے لہٰذا دوسرے جانوروں اور ان کے جسموں کی طرح اس کا بھی ایک جسم ہے۔ یہ اپنے جسم کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔
جو چیز اس کو ممتاز کرتی ہے اسے شرف بخشتی ہے۔ اسے عزت کے اعلیٰ ترین مقام سے ہمکنار کرتی ہے وہ روحانیت ہے۔ اس کا حیوانی جسم اگرچہ حیوانی ہے مگر اس لحاظ سے ممتاز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ”اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔‘‘ (سورۃ ص:75) مگر ممتاز ہونے کے باوجود جسم ہے تو حیوانی ہی… اسے جو شے ممتاز ترین بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ”روح‘‘ ڈالی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی امر ہے۔ یہ ایک قسم کی ملکوتی چیز ہے۔ یہ نورانیت ہے۔ یہ عقل اور حکمت ہے۔ دانائی اور دانشوری ہے۔ رحم اور رحمت ہے۔ اخلاق اور نرمی ہے۔ امن اور محبت ہے۔ اپنی ضرورتوں کو نظرانداز کر کے دوسروں کے کام آنے والی نعمت ہے۔ انسان ایسا کرتا ہے کہ اپنے مادی جسم کی ضرورتوں کو پورا کرتے کرتے روحانیت کو نظرانداز کر دیتا ہے بلکہ ظلم کرنے پر ڈٹ جاتا ہے تو تب وہ نرا حیوان بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی روحانیت کو زندہ بلکہ اعلیٰ ترین مقام پر رکھنے اور حیوانیت کو جائز ضرورت کے درجے پر رکھنے کے لئے خاص الخاص انعام یہ فرمایا کہ اپنے آخری رسول حضرت محمد کریمؐ کو ”رحمۃ للعالمین‘‘ بنا کر بھیجا۔ رمضان کا مہینہ رحمتوں والا مہینہ بنایا اس میں قرآن عطا فرمایا۔ جائز حیوانی عادتوں کو بھی لگام دینے اور انتہائی محدود کرنے کا پروگرام دیا۔ سحری سے افطاری تک کھانے پینے سے منع کر دیا۔ میاں بیوی کے تعلق کو ممنوع قرار دے دیا۔ رات کو قرآن سننے پر لگا دیا۔ تراویح کی نماز پر اسے کھڑا کر دیا۔ اخلاق ایسا کر دیا کہ گالی کے جواب میں بس اتنا کہنا ہو گا ”میں روزہ دار ہوں‘‘ یعنی میں حیوانی سطح پر نہیں ہوں بلکہ ملکوتی اور روحانی سطح پر قائم ہوں۔ اعتکاف تو گویا ملکوتی سطح کی انتہائی بلندی کا مقام ہے۔ جی ہاں! جس نے رمضان میں روحانی اور ملکوتی مقام کو پا لیا اس نے کمال کر دیا اور جو محروم رہ گیا وہ حیوان کا حیوان ہی رہ گیا۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بتاتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ (سارا سال ہی) تمام انسانیت سے بڑھ کر سخی ہوا کرتے تھے اور رمضان میں تو سخاوت (کی صفت) کمال کے آخری درجے کو اس وقت چھوتی تھی جب آپؐ حضرت جبریلؑ سے ملاقات فرماتے تھے اور آپؐ رمضان کے خاتمے تک ہر رات ملاقات فرماتے ہیں۔ حضورؐ حضرت جبریلؑ کو قرآن سناتے تھے۔ جب آپؐ کی ملاقات حضرت جبریلؑ سے ہوتی تو آپؐ بارش سے پہلے چلنے والی تیز ٹھنڈی ہوا سے بڑھ کر سخی ہو جایا کرتے تھے (بخاری:1902)۔ قارئین کرام! ”جُوْد‘‘ کا معنی سخاوت ہے اور اللہ کے رسولؐ کے لئے جو لفظ استعمال ہوا وہ ”اَجْوَدْ‘‘ ہے۔ انگریزی میں اسے ”سپرلیٹو ڈگری‘‘ سمجھ لیجئے ویسے عربی گرامر میں اسے ”اَفْعَلُ التّفضیل‘‘ کہتے ہیں یعنی فضیلت کا انتہائی اونچا درجہ مراد ہے۔یہ بھی ذہن میں رہے کہ عربی زبان میں ”جود اور سخا‘‘ میں فرق یہ ہے کہ انسان جب سخاوت کرتا ہے تو اپنا اور اہل و عیال کا خیال رکھ کر سخاوت کرتا ہے جبکہ ”جود‘‘ کرتے وقت وہ ایسی سوچ سے بالا ہو جاتا ہے۔ میں صدقے قربان جائوں اپنے حضور نبی کریم ؐشاہ عرب اور سرکار مدینہ کی شان پر کہ آپ رسالت مآبؐ کے لئے جود بھی نہیں ”اَجْوَدْ‘‘ کے لفظ کا استعمال ہوا کہ آپ معافی، درگزر، حلم، رحمت، اخلاق، صدقہ و خیرات اور دیگر مہربانی سے متعلق تمام خوبصورت صفات میں اس قدر اعلیٰ ترین مقام پر تھے کہ اس سے اعلیٰ مقام ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ اخلاق حسنہ کی معراج ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بتلایا کہ ویسے تو حضورؐ کی ذات گرامی سال بھر ”اَجْوَدْ‘‘ ہی تھی مگر جب جبریلؑ سے ملاقات ہوتی تو ”اَجْوَدْ‘‘ کی کیفیت تیز ٹھنڈی ہوا جیسی ہو جاتی یعنی آپؐ کی کیفیت ”اَجْوَدْ‘‘ کو نورانی پَر لگ جاتے۔ یہ حضرت جبریلؑ سے ملاقات اور قرآن کی تلاوت کا نتیجہ ہوا کرتاتھا۔
ہمارے بعض اسلامی ملکوں میں روایت ہے کہ عید کے موقع پر قیدیوں کی سزائوں میں کمی کرتے ہیں، بعض ممالک رمضان کے آغاز سے چند دن قبل ہی سزا میں کمی کر کے سینکڑوں اور ہزاروں قیدیوں کو رہا کر دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں، رمضان کے آغاز سے قبل یا کم از کم رمضان کا آغاز ہوتے ہی مذکورہ کام کرنا چاہئے۔ حضورؐ کی محبوب اور پُررحمت صفت ”اَجْوَدْ‘‘ کا تقاضا ہے کہ خاص طور پر بے گناہوں کے لئے معافی تیز ٹھنڈی ہوا کی طرح ہونی چاہئے۔ جن کے جرائم معمولی قسم کے ہیں، ان کے لئے تیز ٹھنڈی ہوا چلنی چاہئے۔ باقیوں کے لئے سزا میں کمی اسی صفت کے مطابق ہونی چاہئے۔ وہ خاندان جن کی آپس کی لڑائیاں اور رنجشیں ہیں، ان کو تمام رنجشیں ٹھنڈی ہوا کی نذر کرنا چاہئے۔ ایک دوسرے کو معاف کرنا چاہئے۔ مولا کریم فرماتے ہیں! لازم بات یہی ہے کہ وہ (غلطیاں) معاف کریں اور درگزر سے کام لیں۔ (لوگو) کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ (تمہاری غلطیاں) تمہیں معاف فرما دیں )اگر ایسا چاہتے ہو تو معاف کرو) اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔( النور:22) مذکورہ آیت کا جو ترجمہ ہم نے ملاحظہ کیا اس کا تعلق سورۃ نور سے ہے۔
یاد رہے! مذکورہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب حضرت عائشہؓ پر الزام لگانے والوں میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے خالہ زاد مِسطح بن اثاثہؓ بھی تھے۔ یہ غریب تھے اور حضرت ابوبکرؓ نے اس کا وظیفہ جاری کر رکھا تھا۔ جب الزام میں وہ شامل ہوئے تو صدیق اکبرؓ کو غصہ آیا کہ میرے تعاون اور رشتہ داری کا بھی کوئی خیال نہ کیا اس پر انہوں نے مِسطح کو کچھ نہ کہا صرف اتنا کیا کہ وظیفہ بند کر دیا۔ یہ ان کا حق تھا کہ اپنا مال جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں اور پھر جو احسان فراموشی کرے اس کو نہ دینے کا انہیں پوری طرح حق تھا بلکہ اس سے بڑھ کر بھی حق تھا کہ وہ خاندانی مجلس میں احسان فراموشی پر جناب مِسطح کو رسوا کرتے… لیکن صدیق اکبرؓ نے کچھ نہ کیا صرف اتنا کیا کہ وظیفہ بند کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر بھی صدیق اکبرؓ کو اپنے پیارے نبیؐ کے ذریعے معافی اور درگزر کی تلقین فرمائی۔ اللہ اللہ! اونچے لوگوں کی اخلاقی روایات بھی اونچی۔ چنانچہ صدیق اکبرؓ نے فوراً حضرت مِسطح کو معاف بھی کر دیا اور وظیفہ بھی جاری کر دیا۔
لوگو! یہ ہے نورانی اور ملکوتی مقام… رمضان میں اگر یہ مقام حاصل نہ ہو سکا تو پھر کیسا ہے ہمارا رمضان، ہمیں یہ سوچ لینا چاہئے۔ اے مولا کریم رحمان و رحیم مالک! ہم سب کو اپنے پُررحمت رسولؐ اور صدیق اکبرؓ کے نقش قدم پر چلا کر رمضان کی پُررحمت برکتوں کو سمیٹنے کی توفیق عطا فرما (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں