نواز شریف اجمل قصاب اور جنرل شانتی…محمد اسلم خان

نواز شریف ڈٹ گئے ہیں وہ اپنے موقف پر ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہیں‘ ان کے وفا شعار وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور بھائی شہباز شریف بھی انہیں سمجھانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ میاں نواز شریف نے نیشنل سیکورٹی کے اعلامیہ کو یکسر مسترد کرکے مصلحت اور مصالحت کے سارے دروازے بند کر دئیے ہیں اور تمام کشتیاں جلادی ہیں۔ جناب نوازشریف’ ان کی تمام یک طرفہ وضاحتیں مسترد کر چکے ہیں جس کے بعد وہ ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان پر بھارتی الزامات کی تائید و تصدیق کر رہے ہیں۔ نواز شریف کے متنازع بیان کے بعد نون لیگ انتشار کا شکار ہے جس کی جناب نواز شریف اور ان کے حواریوں اس کی کوئی پروا نہیں ہے نواز شریف نہ صرف اپنے موقف پر قائم ہیں بلکہ اصرار کرتے ہیں کہ انہوں نے کوئی غلط بات نہیں کی۔ حکمران جماعت کے رہنماؤں کی اکثریت نواز شریف کے بیان کو پاکستان کیلئے نقصان دہ سمجھتی ہے۔ ان ارکان کی قیادت راجہ ظفرالحق کر رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ نواز شریف خود کش مشن پر ہیں۔
کہتے ہیں کہ شہباز شریف نے نواز شریف سے ان کے متنازع بیان کے فوراً بعد سخت احتجاج کیا تھا۔ شہباز شریف نے استفسار کیا کہ انہوں نے سرل المیڈا کو ہی دوبارہ انٹرویو کیوں دیا جس کی وجہ سے نواز لیگ کی حکومت اور پاکستان کو ڈان لیکس کے معاملے پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعض لوگ عجب مقدر لے کر پیدا ہوتے ہیں اجمل قصاب بھی ان میں سے ایک تھا جن کو مرنے کے بعد قبر میں بھی سکون میسر نہیں۔ وہ بے چارہ مدتوں پہلے بھارت میں پھانسی پانے کے بعد سپرد خاک ہو چکا لیکن دہشت گردی کے تناظر میں اس کی داستان بار بار منظر عام پر آتی رہتی ہے۔ چند دن پہلے میجر جنرل محمود علی درانی نے نئی دہلی میں ممبئی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کو یاد کیا اور بھارتی سرکار کے یک طرفہ الزامات کی تصدیق کی کہ ممبئیکے حملہ آور پاکستان سے گئے تھے ۔انہوں نے ازراہ کرم فوج اورآئی ایس آئی کو بے گناہ قرار دیا تھا۔
جنرل درانی کی طرح نوازشریف نے بھی بھارتی الزامات کی تصدیق کرتے ہوئے سارا بوجھ پاکستان پر ڈال دیا ہے میجر جنرل محمود علی درانی اپنے خیالات و نظریات کی وجہ سے بھارتی ذرائع ابلاغ میں بڑے مقبول اور ‘‘شانتی جنرل’’ کہلاتے ہیں اس کالم نگار نے جنرل درانی کی لاف گزاف اور بکواس کے جواب میں 13 مارچ 2017ء کو کالم لکھا تھا جس میں ٹھوس تکنیکی دلائل سے ثابت کیا گیا تھا مبئی حملے ‘را’ کا گھناؤنا کھیل تھا نوازشریف کے اعلان جنگ کے بعدقارئین نے اس کالم ‘‘اجمل قصاب کی کہانی بھارتی پولیس افسر کی زبانی’’ بارے یاد دلایاجس میں بتایا گیا تھا‘‘
اجمل قصاب کے حوالے سے مہاراشٹر پولیس کے ’’ ریٹائرڈ سربراہ ایس ایم مشرف ایک بالکل اور انوکھی کہانی بیان کرتے ہیں جس پر پاکستان میں کسی نے توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ممبئی پولیس کے ایک مایا ناز پولیس افسر ہیمنت کرکرے کی موت کے گرد گھومتی یہ داستان ایسی چونکا دینے والی ہے ’’کرکرے کے قاتل‘‘ نامی اس کتاب کے اردو اور پنجابی سمیت مختلف ربانوں میں ترجمے ہو چکے تھیں۔ اس کتاب میں بتایا گیا کہ اجمل قصاب کو 2006میں کھٹمنڈو سے بھارتی ’’را‘‘نے اغواء کرایا تھا جس کو دو سال قید میں رکھنے کے بعد ممبئی حملوں میں زندہ ثبوت کے طور پر استعمال کیا گیا۔ کہتے ہیں کہ کھٹمنڈو سے 200 افراد کو مختلف علاقوں سے اغوا کیا گیا تھا جس کے اغوا پر نیپال کی سپریم کورٹ میں حبس بے جا اور اغوا کی درخواستیں دائر کی گئیں تھیں جس میں نیپال وزارت داخلہ اور بھارتی ہائی کمشن کو فریق بنایا گیا تھا۔
سی ایم فاروق نامی وکیل نے اس حوالے سے بھارت اور پاکستانی حکام کو خطوط بھی لکھے اور پریس کانفرنس بھی کی تھی۔ یہ تمام مغوی قانونی طریقے سے ویزے لے کر کھٹمنڈو گئے تھے کھٹمنڈو بھارتی خفیہ اداروں اور ’’را‘‘ کی چراہ گاہ بنا ہوا ہے جس کا اندازہ وہاں جائے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے سیاہ رو چڑی
باز ’’را‘‘ کے وکیل صفائی بنے ہوئے ہیں۔ کھٹمنڈوکا ذکر آئے اور اپنی جوانی کی دیوانگی یاد نہآئے بھلا یہ کیسے ممکن ہے۔ جب راتیں جاگتیں تھیں دن سوتے تھے دور بادشاہت میں ہمالیہ کے قدموں پر کھٹمنڈو اک خوابیدہ سا شہر تھا جس میں بجلی سے چلنے والی سرخ بسیں چلتیں تھیں جس کا دریا بدبودار گندہ نالہ نہیں بنا تھا۔ ہمارے مربی و محترم ڈاکٹر فاروق شیخ وہاں ہوتے تھے (ICIMOD) The International Centre for Integrated Mountain Development کے کرتا دھرتا، پاکستان کے فخر فرزند، چوٹی کے ماہر حشرات الارض’ جنہوں نے شہد مکھیوں کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی شرح افزودگی کا پتاچلانے کی امریکی سی ا?ئی اے کی سازش ناکام بنا دی تھی۔ ا?خری بار کھٹمنڈو گیا تو بادشاہت رخصت ہوئے کئی برس بیت چکے تھے۔ کھٹمنڈو میں چاروں طرف غلاظت کے ڈھیرتھے۔ آوارہ کتوں کے ریوڑ شہر کے گلی کوچوں میں پھر رہے تھے۔ کھٹمنڈو کے باسی جمہوریت کی برکات سے لطف اندزو ہو رہے تھے۔ لیکن تیکھے مزاج اور ملیح چہرہ بنیتا ملا کب کی کینڈا سدھار چکی تھیں سنجیدہ مزاج اور محقق نیلو تھاپا ملک سے باہر تھیں لے دے کے صرف ثمن بسینت رہ گئے۔ وہ بھلا کب تک ساتھ دیتے البتہ میری بھتیجی پھاگنی تایا جی کو شرارتوں سے بہلاتی رہی۔ مودی نے تو اب بڑے نوٹوں پر پابندی لگائی ہے کھٹمنڈو میں مدتوں پہلے 5 سو روپے کا بھارتی نوٹ رکھنا قابل دست اندازی جرم تھا اور خود اس کالم نگار ، اس جرم لطیف میں گرفتار ہوتے ہوتے بچا تھا کہ ثمن کو معاملہ رفع دفع کرانے کے بعد اس کی ادائیگی خود کرنا پڑی تھی۔ کھٹمنڈو سے ایسی ایسی رنگین اور سنگین یادیں وابستہ ہیں کہ جب کبھی ماضی کے اس شہر جمال کاذکرآتا ہے تو اب کوئی کیا کہاکئے اور ہم سناکئے والا معاملہ ہو جاتا ہے۔
کھٹمنڈو سے بے گناہ پاکستانیوں کو خاموشی سے اغوا کر کے بھارت پہنچا دینا بھارتی خفیہ اداروں کا معمول ہے جنہیں بعد ازاں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے تا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دے کر عالمی برادری میں بدنام کیا جا سکے۔ اس وقت نیپال کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے اجمل قصاب کے اغوا اور بھارت سمگل کئے جانے کے واقعے سے لا علمی ظاہر کر کے واقعہ نمٹا دیا تھا۔ مہاراشٹرا پولیس کے ریٹائرڈ سربراہ ایس ایم مشرف نے برس ہا برس کی تحقیق و تفتیش کے بعد اپنی کتاب منظر عام پر لائے ہیں کہ ہیمنت کرکرے کے قتل کی تفتیش کے دوران بھی یہ شواہد سامنے آئے کہ اجمل قصاب کو بھارتی خفیہ اداروں کے انتہا پسند عناصر نے اغوا کے بعد تین سال تک اپنی تحویل میں رکھا تھا جس کے بعد موقع غنیمت جان کر اسے زندہ ثبوت دکھانے کے لئے ممبئی حملوں کے دیگر ملزموں کا ساتھی بنا کر پیش کر دیا گیا۔ اسی طرح ممبئی حملوں کے ملزموں کو شناخت کرنے والی واحد گواہ خواتین انیتا راجند اودیا نے بتایا تھا کہ اس کے سامنے 6 ملزمان ربڑ کی کشتی سے اترے تھے جن کی لاشوں کو بعد ازاں اس نے ہسپتال میں شناخت کر لیا تھا لیکن اس نے اجمل قصاب کو پہچاننے سے انکار کر دیا تھا۔ انیتا نامی اس خاتون کو دہشت گردوں کے ممبئی کے ساحل پر اترنے کی واحد عینی شاہد ہونے کے باوجود بھارتی سرکار نے بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا تھا بلکہ اس پر تفتیش کنندگان کو گمراہ کرنے کے جرم میں تعزیرات ہند کی دفعہ 182 کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا کیونکہ ان سے اجمل قصاب کو 6 دہشت گردوں کا ساتھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔  ممبئی حملوں میں کئی امریکی شہری بھی مارے گئے تھے اس لئے امریکی تفتیش کار بھی تحقیقات کیلئے وہاں پہنچ گئے تھے جو تین ہفتے انیتا سے تفتیش کرتے رہے جو ملزموں کی شناخت کے حوالے سے انیتا کی صلاحیت سے بہت متاثر ہوئے تھے انہوں نے انیتا کو تفتیش میں تعاون کرنے پر 10 ہزار امریکی ڈالر دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔
11 جنوری 2008ءکو حملہ آوروں کی آمد کی واحد چشم دید گواہ انیتا غائب ہو گئی اور تقریباً ایک ہفتہ غائب رہی۔ 16 جنوری 2008ءکو دوبارہ منظر عام پرنمودار ہونے کے بعد انیتا نے دعویٰ کیا کہ امریکی خفیہ اداروں کے ارکان اسے عدالت میں بیانات دلوانے اور تحقیق و تفتیش کے لئے امریکہ لے گئے تھے جہاں اسے عدالت میں پیش کر کے بیان بھی لیا گیا جسے ممبئی پولیس نے یکسر مسترد کر دیا تھا۔ ایس ایم مشرف نے اجمل قصاب کی شائع ہونے والی تصاویر کا تکنیکی تجزیہ کر کے ثابت کیا ہے کہ یہ تصاویر اصلی نہیں ہیں بلکہ وقوعہ سے پہلے یا بعد ہی لی گئی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چھتر پتی شیوا ٹرمینل پر لی جانے والی اجمل قصاب کی تصویر ممبئی مرر میں شائع ہوئی تھی جو فوٹوگرافر سبطین ڈی سوزا نے لی تھی۔ یہی تصویر مراٹھی اخبار روزنامہ پودھاری میں کسی اور فوٹوگرافر کے نام سے شائع ہوئی جبکہ اس پلیٹ فارم پر کھانے کے سٹال کے مالک ششی کار سنگھ نے واضح بتایا تھا کہ تمام حملہ آور نقاب پوش تھے اسی طرح ٹائمز آف انڈیا نے بھی بغیر وضاحت کہ یہ تصویر کس فوٹوگرافر نے بنائی تھی گولیاں برساتے ہوئے حملہ آور کی سامنے سے ایسی تصویر بنانا ممکن نہیں ہے کیونکہ ایسے فوٹوگرافر کا خود کار رائفل کی گولیوں سے بچ نکلنا ممکن نہیں ہے۔
اسی طرح اجمل قصاب کی ایک واضح تصویر مراٹھی زبان کے اخبار مہاراشٹر ٹائمز میں شائع ہوئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ایک تصویر دو مختلف حریف اخبارات میں کیسے بیک وقت ایک ہی دن شائع ہو سکتی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ خفیہ ادارے منظم منصوبہ بندی کے تحت اپنی تخلیق کردہ تصاویر چھپوا رہے ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسی طرح سی سی ٹی وی کیمرے بھی صرف اجمل قصاب ہی کی تصاویر بنا پائے جبکہ دیگر حملہ آوروں کی ان ایکشن وڈیو دستیاب نہ ہو سکیں۔برادرم محسن شاہین نے اسی حوالے سے درج ذیل بڑا متوازن خط لکھا ہے ملاحظہ فرمائیں۔ آپ سے محبت کے باوجود اور نواز شریف سے بیشمار اختلاف کے باوج±ود1984ءسے اختلاف کرنے والے رہنماﺅں کو باری باری غدار،وطن فروش اور شیطان قرار دینے کی م±ستقل روش تکلیف دہ اور سیاسی عمل کو ناقابلِ تلافی ن±قصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
م±خالفین کے لئے جس جس شخص نے بھی بازاری ز±بان کے استعمال کا رواج ڈالا اس نے عوام کے ذوق اور مزاج میں جذباتیت اور عامیانہ پن کو فروغ دیا۔ اس سے دینداروں کے ہاتھ ک±چھ آنے والا نہیں ہے۔م±لک پر جو قیامت گزر رہی ہے،جس قماش کی قیادت ہم پر مسلط ہے اور من حیث القوم جن عذابوں سے سب دوچار ہیں اس کا محرک اور منبع صرف ایک ہی جگہ سے پھ±وٹ رہا ہے،ایک ہی سر چشمہ ہے جو بزعمِ خ±ود ہر چیز کا امرت دھارا اور درماں بنا ہوا ہے۔حالانکہ جو اس کا اپنا کام اور ب±نیادی کام ہے جب بھی آزمائش ہوئی وہ اس میں ناکام ثابت ہوئے،ہم پھر بھی ان سے محبت کرتے ہیں کہ کوشش اور ق±ربانیوں پہ شک نہیں ہے۔
علاج ایک ہی ہے خواہ قیامت گزر جائے سیاسی عمل اورآزادانہ انتخاب کے عمل کو جاری رہنے دیا جائے۔سول ح±کومت اور اس کے تمام فیصلے صرف اس کا اختیار ہو اس میں کسی قیمت پر اور طاقت کی ب±نیاد پر دخل اندازی کی کوشش نہ ہو۔میرا م±شاہدہ، م±طالعہ کہتا ہے کہ اس کے علاوہ ہر راستہ یا تدبیر پستی اور قوم کی مزید تذلیل کا باعث بنے گی۔بندوق اور دھونس سارے جہان میں جہاں بھی ملکی اور سیاسی ا±مور میں دخل دیتی ہے وہاں شع±ور اور مثبت سوچ بے دخل کرتی ہے۔جب جب جو جو ا±ن کی چاپلوسی اور خدمتگاری کے ہنر سے آراستہ،آلہ کارمحض بن کے اپنی مطلب براری کی کوشش کرتا ہے،ہر آنے والے دن میں مزید بے توقیر اور بے وقعت ہوتا جاتا ہے۔ (ختم شد)

اپنا تبصرہ بھیجیں