ہما ر ا تجارتی خسا ر ہ اور اس کا سبب ۔۔۔ڈاکٹر ابراہیم مغل

ایک مر تبہ نہیں بلکہ کئی مر تبہ لکھ چکا ہو ں کہ وطنِ عزیز کی اگر معا شی صو ر تِ حا ل کو بہتر کر نا ہے تو یہاں کی در آمدا ت ا و ر بر آمدا ت میں تو ا ز ن قا ئم کر نا ہو گا۔ لیکن اس ملک کو تو نقا ر خا نہ بنا دیا گیا ہے او ر نقا ر خا نے میں بھلا طو طی کی آ و ا ز کو ن سنتا ہے۔ایک ما ہ پہلے ہی تحر یر کیا تھا کہ گذ شتہ نو ما ہ کے دو ر ا ن بر آ مد ا ت میں تیر ہ فیصد جبکہ در آ مد ا ت میں ستر ہ فیصد ا ضا فہ ریکا ر ڈ کیا گیا ہے۔ اور ا ب جبکہ رو ا ں ما لی سا ل کو شر و ع ہو ئے دس ما ہ گذ ر چکے ہیں تجا ر تی خسا رہ تیس ارب سے بھی ز یادہ ہو چکا ہے۔یا د دلا نے کی ضر ور ت ہے کہ رو ا ں ما لی سا ل کے لیئے حکو مت نے تجارتی خسارے کا ہدف 25 ارب 70 کروڑ ڈالر رکھا تھا۔ رواں مالی سال میں جولائی تا اپریل برآمدات میں 14 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اس عرصے میں برآمدات کا حجم 9 ارب 20 کروڑ ڈالر ہوگیا، لیکن دوسری جانب درآمدات کا حجم 6 ارب 10 کروڑ ڈالر اضافے کے ساتھ 49 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا اور یہ رواں سال کے مجموعی ہدف سے زائد ہے۔یہی و ہ تصو یر ہے جو ظا ہر کر تی ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی دوسرے ممالک کے ساتھ ہماری تجارت زرِ مبادلہ کے ذخائر پر سب سے بڑا بوجھ بنی ہوئی ہے۔ حکومتی سطح پر کی گئی کوششوں کے نتیجے میں مذکورہ مدت میں برآمدات میں کچھ اضافہ تو ہوا لیکن ہم نے اس سے زیادہ چیزیں درآمد کرلیں اور یوں یہ اضافہ تجارتی خسارے لق و دق صحر ا میں کہیں کھو گیا۔ کچھ عرصہ قبل پا کستا ن میں ہو نے وا لی معا شی تبد یلی کو سراہا جارہا تھا ، اس کو نا جا ئز طو ر پر سہر ا ئے جا نے کا بیڑہ سا بق وفا قی و ز یر ِخز ا نہ غلا م ا سحقٰ ڈا ر نے ا ٹھا یا ہو ا تھا۔ اب ا ن کی غبا ر ے میں پھو نکی گئی ہو ا نکل ر ہی ہے۔ مگر حسا س سو ا ل تو یہ ہے کہ اس لمبے چو ڑے خسا رے کا ا ثر با الا آ خر کہا ں پہنچ کے د م تو ڑ تا ہے ؟ تو صا حبا ن انتہا ئی د کھ کے سا تھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اس کا نشا نہ ملک کا غر یب اور در میا نہ طبقہ بنتا ہے۔یہ دو نو ں طبقے ا حتجا ج تک کر نے کے حق سے تک محر و م ہو تے ہیں۔ ا گر یہ احتجا ج کر نے لگیں تو اگلے ر و ز ان کے خا ند ا ن کو کھا نا کو ن بہم پہنچا ئے گا؟ مگر ا ن کے دلو ں سے وہ بد د عا ئیں نکلتی ہیں جو عر شِ معلیٰ تک پہنچتی ہیں۔ عبر ت کے طو ر پر مغر و ر اور خو د سر اسحا قٰقٰ کی مو جو د ہ حا لت د یکھ لیں۔مگر یہ تو ابھی آ غا ز ہے۔ا سحق ڈا ر کی قو می دو لت لو ٹنے کی مہلک پا لیسیا ں انہیں کس طر ح کے انجا م سے دو چا ر کر تی ہیں، یہ آ نے و ا لا و قت ضر و ر بتا ئے گا۔
بہر حا ل اسحا قٰ ڈا ر کے قصے کو فی ا لحا ل ایک طر ف رکھتے ہو ئے پا کستا ن کی معیشت کے بحر ا ن کے معا ملے کا جا ئز ہ لیں تو ہم د یکھتے ہیں کہ پاکستان میں معیشت کو جس سب سے بڑے بحران کا سامنا رہا، وہ ہے بیرونی ادائیگیوں اور آمدنی میں توازن قائم کرنا، جن کو معیشت کی زبان میں رواں کھاتوں کا خسارہ کہا جاتا ہے۔ اس خسارے نے پاکستانی معیشت کو ہمیشہ بحران کا شکار رکھا ہے۔ گزشتہ حکومت کے اختتام اور 2013ءکے الیکشن کے بعد نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے وقت بھی عالمی میڈیا نے پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی کا اندیشہ ظاہر کیا تھا، اور اس وقت نئی منتخب حکومت نے آئی ایم ایف سے اقتصادی ریلیف پیکیج حاصل کرکے ثابت بھی کیا تھا کہ ملکی معیشت کی حالت ٹھیک نہیں۔ اب پھر جبکہ موجودہ حکومت کا پانچ سالہ دور مکمل ہونے والا ہے، عبوری حکومت بننے والی ہے اور یہ سال انتخابات کا ہے تو قومی معیشت کی حالت بہتر نہیں۔ سوال یہ ہے کہ گزشتہ چار ساڑھ چار برس موجودہ حکمران معیشت کے مستحکم ہونے اور پاکستان کو ایشیا کا معاشی ٹائیگر بنانے کے جو دعوے کرتے رہے، وہ کیا ہوئے؟ پاکستان کے پاس زرمبادلہ حاصل کرنے کے دو بڑے ذریعے ہیں۔ پہلا برآمدات اور دوسرا سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ملک میں اپنے رشتے داروں کو بھیجی گئی ترسیلاتِ زر ہیں۔ درآمدات و برآمدات کی صورتحال کا جائزہ ہم نے لے لیا، برآمدات میں اضافہ تو ہوا، لیکن درآمدات اس کی نسبت زیادہ بڑھ گئیں۔ ترسیلاتِ زر میں بھی اگرچہ گزشتہ مالی سال کی نسبت اضافہ تو مشاہدے میں آیا لیکن معاملات کو اب بھی اطمینان بخش قرار نہیں دیا جاسکتا کہ بیرونِ ملک سے کافی پاکستانیوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کارکنوں نے رواں مالی سال 2017/18ءکے پہلے 10 ماہ میں 16 ارب 25 کروڑ سے زائد امریکی ڈالر وطن بھجوائے، جو 3.92 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ گزشتہ برس کی اسی مدت میں 15 ارب 64 کروڑ ڈالر موصول ہوئے تھے۔ اپریل 2018ءمیں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی مالیت 1650.59 ملین ڈالر تھی، جو مارچ 2018ءکے مقابلے میں 6.89 فیصد کم اور اپریل 2017ءکے مقابلے میں 7.25 فیصد زیادہ ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق بینکاری نظام کے ذریعے ترسیلات وطن بھجوانے والے والے پاکستانی تین اہم خطوں میں آباد ہیں۔ خلیج تعاون کونسل، بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ۔ لیکن خلیجی ملکوں میں تیل کی قیمت کم ہونے سے مالی بحران، امریکہ اور برطانیہ میں سخت قوانین کی وجہ سے ترسیلات زر میں کمی ہورہی ہے۔ ان حالات میں ضرورت ایسی پالیسی مرتب کرنے کی ہے، جس کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ تو ہو، لیکن اس کے ساتھ ساتھ درآمدات کی شرح یا مقدار کم بھی کی جاسکے۔ دوسرے یہ کہ حکومتی سطح پر بیرون ملک نئی نو کر یا ں تلاش کی جائیں تاکہ مزید پاکستانیوں کو بیرون ملک بھیجا جاسکے۔ اس کے ساتھ مختلف وجوہ کی بنا پر بیرون ملک سے پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجنے کے عمل کو روکا جائے۔ یہی دو طریقے ہیں، جن کے ذریعے زرِ مبادلہ کے قومی ذخائر کو اطمینان بخش حد تک مستحکم رکھا جاسکتا ہے۔ برآمدات بڑھانے اور درآمدات میں کمی لانے کے لیے حکومت کو کچھ جرا¿ت مندانہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ لگژری اشیاءکی درآمد پر سختی سے پابندی عائد کرنا اور صرف ناگزیر اشیاءکی درآمد کی اجازت دینا ہوگی۔ یورپ، امریکہ، برطانیہ اور سیکنڈنے نیویا جیسے ممالک میں تجارت بڑھانا سود مند ہے لیکن اس خطے کے ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کے سلسلے میں بھی جامع منصوبہ بندی کی ضر و رت ہے۔ بیر و نی مما لک میں مقیم پا کستا نی حضر ا ت اپنے خا ند ا ن سے دو ر رہ کر اس ملک کی ا قتصا دی حا لت کو بہتر بنا نے کے لیئے بہت بڑی قر با نی دے رہے ہیں، ان کی قر با نی کو نہ صر ف حکو متی سطح پر سر ھا ئے جا نے کی نہ صر ف ضر و ر ت ہے، بلکہ ان کے حقو ق کا وہا ں ر ہتے ہو ئے تحفظ کر نا حکو مت کی ا ہم ذ مہ د ا ری ہے۔او ر پھر یہی نہیں بلکہ جن جن مما لک میں وہ خد ما ت سر ا نجا م دے رہے ہیںان ان مما لک میں بھی اپنے لو گو ں کے حقو ق کے تحفظ کے لیئے ان کی حکو متو ں سے مذا کر ا ت کر نا ہو ں گے۔ اپنے لو گو ں کو پر د یس میں بے یا رو مد د گا ر چھو ڑ دینا ظلم کے ز مر ے میں تو آ تا ہی ہے۔ مگر اس کا نقصا ن ملک کی اقتصا د ی حا لت کو بھی پہنچ کے ہی ر ہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں