فلسطینیوں کا قتل عام اور مسلم امہ کی خاموشی۔۔۔صابر مغل

سوموار کے روزاسرائیل اور فلسطین کے درمیان غزہ کی پٹی پر اسرائیلی ماہر نشانے باز فوجیوں نے نہتے ،معصوم ،بےگناہوں اور مسلمانوں کی ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی کے باجود کرہ ارض پر تنہا ہیں کو انتہائی سفاکیت کی تاریخ رقم کرتے ہوئے گولیوں سے بھون ڈالامیڈیا کا دور ہے دنیا بھر سے پل پل کی خبریں قریہ قریہ پہنچ جاتی ہیں مگر ادھر قتل و غارت جاری رہی دوسری طرف مسلم امہ کے حکمرانوں کی جانب سے پراسرار حد تک خاموشی نے کلیجہ چھلنی کر دیااس روز الراقم اتفاق سے گھر تھا اور سارا دن میاں نواز شریف کی نئی پالیسی کے حوالے سے ہونے والی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھی مگر شام تک پاکستانی الیکٹرانک میڈیا میں بھی ایسی کوئی بریکنگ نیوز نہیں آئی کہ مسلمانوں دیکھو تمہارے مسلمان بھائی کس طرح خوں میں لت پت دنیا فانی سے کوچ کرتے جا رہے ہیں بلکہ رات گئے تک دنیا بھر کے کسی بھی مسلمان حکمران کی جانب سے بھی اسرائیلی بربریت کا نوٹس تک نہ لیا گیا بلکہ یہاں تک کہ کسی نے ظلم و ستم کی اس نئی تاریخ پر مذمتی بیان دینا بھی مناسب نہ سمجھا گیا ،مسلم امہ کی اس قدر بے حسی ،بے حمیتی اور لاپرواہی بہت تکلیف دہ ہے مسلمان حکمرانوں کے اندر لگتا ہے اب غیرت ایمانی ہی مر چکی ہے ورنہ یوں کبھی مسلمان نوجوان ،بچے اور خواتین گولیوں کا نشانہ نہ بنتے ،دین اسلام میں امت نبویﷺکو یوں صیہونیوں اور طاغوتی طاقتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ممنوع ہے ،فی زمانہ مسلم دنیا کے حکمران جو ہمارے آقا و مالک ،رہبر و رپنماءبنے بیٹھے ہیں اصل میں یہ ایک طرف ہمارے حاکم ہیں تو دوسری جانب یہ غیر مسلموں ،کافروں،یہودیوں اورعیسائیوں کے غلام ہیں ان کے گلے میں غلامی کا یہ پٹا انہیں کچھ نہیں کرنے دیتا یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں جہاں بھی کوئی قوم کسی دہشت گردی یا ریاستی جبر و ستم کا شکار ہے وہ مسلمان ہی ہیں یہ طاغوتی طاقتیں مختلف بہانے بنا کر اب تک کئی مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا چکے ہیں مگر ستم یہ کہ ان کے اس بہیمانہ عمل میں بھی انہیں مسلمان حکمرانوں کی حمایت حاصل رہی ،شام میں کیمیائی ہتھیاروں تک کا استعمال اس کی زندہ مثال ہے ،اگر ہمارے یہ مسلم حکمران فلسطینیوں کا ساتھ نہیں دیں گے تو اور کون دے گا اگر ان کے ذہنوں میں کوئی غمازی ہے تو ذرہ دنیا کے کسی بھی حصے میں غیر مسلموں پر یوں فائرنگ کر کے دکھائیں جیسے ابھی اسرائیلیوں نے نہتے فلسطینیوں پر کی ہے تب پتا چلے گا کہ دنیا کے تمام غیر مسلم ممالک کیسے یکجا ہو کر ان کے خلاف ہوتے ہیں تب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی جاگ جائے گی ،پابندیوں میں جکڑ دیا جائے گا ،راستے بند کر دئے جائیں گے ،تمہاری زندگی کو عذاب بنا دیا جائے گا،کیا کرہ ارض پر سب ظلم و ستم صرف مسلم امہ کے لئے ہی ہیں؟اے مسلم حکمرانوں جاگو یا تم کب جاگو گے جب تمہاری نسلوں کو یہ تباہ و برباد کر دیں گے یہ طاقتیں مسلمانوں کی قرآن و حدیث کے مطابق تمہاری دشمن ہیں اور دشمن رہیں گی تو تم کیا مسلمان نہیں ہو؟ان سے دوستیاں یا ان کی غلامی کر رہے ہو جو تمہارے ازلی اور ابدی دشمن ہیں ، یروشلم میں امریکی سفارتخانے کا افتتاح کر دیا گیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی کے وعدے کو عملی جامہ پہنایا گیا امریکی محکمہ خزانہ کے وزیر سٹیو منوچن اور صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے نئے قونصل خانہ کے باہر نصب تختی کی نقاب کشائی کی،اس موقع پر صدر ٹرمپ کی بیٹی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے45ویں صدر کی جانب سے ہم آپ کو پہلی مرتبہ یروشلم میں امریکی سفارتخانے میں خوش آمدید کہتے ہیں،اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج ہم تاریخ رقم ہوئی ہے انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ ،ان کی بیٹی اور دامادجیرڈ کشنر کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کیا،اس روز گذشتہ چھ ہفتے سے جاری اسرائیلی سرحد پر نئی باڑ کے خلاف جاری مظاہروں میں انتہائی شدت آ گئی انہوں نے ٹائر جلائے اور اپنی بساط کے مطابق اسرائیلی فوجیوں پر پتھراﺅ کیاجواب میں اسرائیلی فوجی نشانے بازوں نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کے نتیجہ میں اب58 فلسطینی جن میں18بچے بھی شامل ہیں شہید جبکہ 2700سے ہزار سے زائد افراد شدید زخمی ہو گئے،فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نے تنبیہ کی ہے کہ یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی سے مشرق وسطیٰ مزید عدم استحکام کا شکار ہو گا اس اقدام سے امریکی انتظامیہ نے امن کے عمل میں اپنا کردار منسوخ کر دیا ہے اور دنیا ،فلسطینی عوام اور عرب دنیا کی بے عزتی کی ہے،یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ فیڈریکا موغرینی نے غزہ کی باڑ کے نزدیک جاری مظاہروں پر اسرائیلی فائرنگ جس میں متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کی توقع کا کہا ہے،فلسطینی سرکاری نیوز ایجنسی وافا کے مطابق پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن وصل ابو یوسف نے فلسطینی علاقوں میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا ہے،انسانی حقوق کی تنظیموں ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیلی فوج کی جانب سے طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے،یروشلم میں امریکی سفارتخانے کا افتتاح اسرائیل کے قیام کے 70ویں سالگرہ کے موقع پر رکھا گیا , مقبوضہ بیت المقدس میں اس موقع پر اسرائیلیوں کی خوشی دیدنی تھی سالانہ یروشلم ڈے منانے کے لئے فلیگ مارچ انتہائی جوش و خروش سے نکالاگیا جس میں ہزاروں یہودیوں نے شرکت کی ،فلسطینیوں کی جانب سے بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی پر احتجاج جاری ہے اور اس ضمن میں اسرائیل سے ملحقہ پٹی پر ایک بہت بڑے مظاہرہ کیا گیا،ایک طرف فلیگ مارچ نکالنے اوردوسری جانب احتجاج کے باعث اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو گیا،فلسطینی اس دن کو نکبہ کے نام سے یاد کرتے ہیں جب1948کی جنگ کے نتیجے میں فلسطینیوں کو نقل مکانی پر جبور کر دیا گیا تھا فلسطینیوں نے امریکی سفارخانے کی یروشلم منتقلی پر احتجاج کا اعلان کر رکھا تھا ،بین الاقوامی برادی نے بھی آج تک مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم نہیں،اب امریکی سفار ت خانے کی منتقلی سے اس دن کی اہمیت میں مزید اضاف ہو گیا ہے،اس موقع پر بیت المقدس کے میئر نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی سے نیو ورلڈ آرڈر پر عمل درآمد کا آغاز ہو جائے گا،امریکی ڈپٹی سیکرٹری اسٹیٹ جان سولیوان نے سفارت خانے کی منتقلی کو ایک طویل عرصے سے تسلیم کئے جانے کی منتظر قرار دیا،افتتاحی تقریب کے پیش نظر اسرائیلی پولیس اور فوج نے بڑے پیمانے پر اہلکاروں کی تعیناتی کا منصوبہ ترتیب دیا،اسرائیلی پولیس کے ترجمان مکی روز نفیلڈ کے مطابق ایک ہزار کے قریب اہلکار صرف سفارت خانے کے آس پاس تعینات تھے،سوموار کے روز فلسطینیوں کے قتل عام سے قبل مارچ میں غزہ کی پٹی کے ساتھ اسرائیلی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں مظاہروں کے سبب44فلسطینی شہید ہو ئے تھے ،علاوہ ازیں جیسے ہی امریکہ نے بیت المقدس میں سفارت خانے کے قیام کا اعلان کیا تب OICنے امریکہ پر واضح کیا تھا کہ اگر اس نے یہ متنازعہ فیصلے پر عملدرآمد کیا تو تعلقات منقطع ہو جائیں گے، او آئی سی اس حد تک غیر فعال ہے تو اسے ختم کیوں نہیں کر دیا جاتااور تم عیاشیوں اور یورپ کی غلامی میں غرق رہو، فلسطینیوں کے قتل عام پر سلامتی کونسل اور چند مسلم و غیر مسلم ممالک نے انگڑائی لی ہے مگر اس کی تحقیقات کو امریکہ نے روک دیا ہے ،وائٹ ہاﺅس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے غزہ میں اسرائیلی فورسز کی معصوم فلسطینیوں پر فائرنگ اور درجنوں افراد کی شہادت پر برطانیہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے ،فرانس کی جانب سے بھی طاقت کے استعمال سے گریز کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ترکی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں،سعودی عرب نے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کی شہادت پر شدید مذمت کی ہے،کویت نے آج سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست کر دی ہے،جنوبی افریقہ نے تل ابیب اور ترکی نے اسرائیل اور امریکا سے اپنے سفیر واپس بلانے کے علاوہ او آئی سی کا اجلاس بلا لیا اس کے علاوہ لبنان اور استنبول کی سڑکوں پر ہزاروں افراد احتجاج کرتے نکل آئے،فلسطینی صدر محمود عباس نے تین روز سوگ کا اعلان کر دیا،اگر یوں بلکہ اس سے بھی سخت رد عمل مسلم ممالک کی جانب سے آئے تو کفار کا یہ ظلم و ستم تو کیا یہ خود نیست و نابود ہو جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں