نواز شریف کا حالیہ بیان اور ملک پاکستان۔۔۔عزیر رفیق

کوئی بھی انسان یا جانور جب باﺅلا ہو جائے تو اسے کھلا چھوڑنا انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے اندر زہر اس قدر بھرا ہوتا ہے کہ وہ جسے بھی کاٹتاہے اسےبہت زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ باﺅلا وہ اس وقت ہوتا ہے جب اس نے کسی زہریلی چیز کو کھا لیا ہو۔ آج یہی صورت حال نواز شریف کی ہے جو کہ پاکستان کے ازلی و ابدی دشمن امریکہ اور انڈیا جیسے زہریلے جانوروں سے رشوت، فنڈ اور بھیک کی صورت میں پیسہ کھا کر اپنے جسم میں وطن عزیز پاکستان کے خلاف زہر کوٹ کوٹ کر بھر چکا ہے۔ ان روپے پیسوں کا زہر اس قدر عروج پر پہنچ چکا ہے کہ اب میاں صاحب پاکستان کے خلاف وہ زہر اگل رہا ہے۔
نااہل سابق وزیراعظم کا یہ بیان انتہائی افسوسناک اور پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر جگ ہنسائی کروانے کے برابر ہے۔ جس میں میاں صاحب کا کہنا ہے کہ ممبئی حملہ کرنے والے پاکستان سے ہی ہندوستان میں گئے تھے۔ یہاں میں اس وطن فروش نااہل سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کو یہ علم تھا کہ ممبئی حملہ کرنے والے لوگ پاکستان سے ہی گئے تھے تو پیپلزپارٹی کی حکومت کے بعد آپ کی ہی تو حکومت تھی اور ہندوستان نے اقوام متحدہ میں ممبئی حملوں کا کیس بھی کھولا تھا اور انڈیا بار بار پاکستان پر پریشر ڈال رہا تھا کہ ممبئی حملے کے مجرموں کو ہمارے حوالے کرو۔ اس وقت اقوام متحدہ اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے ممبئی حملے کے ہندوستان سے ثبوت بھی مانگے تھے تا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف کروائی جائے۔ لیکن انڈیا ان حملہ آوروں کے حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ تو اس وقت آپ ممبئی حملوں کے مجرموں کے ثبوت ہندوستان کو دے کر امریکہ اور انڈیا کی نظروں میں اپنی عزت میں اضافہ کر سکتے تھے۔ جب آپ کو یہ علم تھا تو ایسا کیوں نہیں کیا؟ اور آپ نے اپنی حکومت کے دور میں ان دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کیوں نہ کی۔ جی ہاں نا اہل نواز صاحب! اس میں آپ خود بھی مجرم ہیں کہ آپ نے ممبئی حملہ آوروں کو اپنی حکومت میں رہتے ہوئے پاکستان میں پناہ دے رکھی تھی اور کاروئی نہیں کی۔ لیکن اب جب پاکستان کی عدالت نے آپ کو آپ کی کرتوتوں کی وجہ سے تاحیات نا اہل قرار دے دیا ہے اور پانامہ لیکس سے لے کر بہت سے سکینڈل آپ کے خلاف کھل رہے ہیں اور اب کچھ دنوں تک اڈیالہ جیل میں بھی آپ کی آمد متوقع ہے جہاں صفائی و ستھرائی کے انتظامات مکمل ہو چکے ہیں تو اب آپ وہ زہر جو امریکہ اور انڈیا نے مال و متاع کے عوض آپ کے جسم میں پاکستان کے خلاف بھرا تھا وہ ملکی اداروں اور ملکی سلامتی کے خلاف زہراگل رہے ہیں اور اپنی غلطیوں اور کرتوتوں کی سزا خوش ہو کر بھگتنے کی بجائے ملکی اداروں پر غصہ نکال رہے ہیں۔
میاں صاحب! آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اداروں کے خلاف بول کر اور ملک پاکستان سے غداری کر کے آپ بچ جائیں گے؟ نہیں میاں صاحب! بالکل نہیں یہ غیرت مند قوم آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی کیونکہ آپ کو کیا علم کہ یہ ملک پاکستان ہمیں کتنی قربانیاں دینے کے بعد حاصل ہوا۔ اس وطن کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے بزرگوں نے بہت قربانیاں دیں۔ جب ہمارے بزرگ اس وطن کو حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے تھے تو بہت نازک وقت تھا لیکن قوم نے یہ سوچ کر کہا کہ یہ وقت تو پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔ آنے والی نسلوں کی بقا کی خاطر اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کا فیصلہ کیا۔ طلباءنے اپنی تعلیم کو خیر آباد کہا۔ ملازمت پیشہ افراد نے ملازمتوں کو ٹھکرا دیا۔ تاجروں نے اپنی دکانیں بند کر دیں۔ علماءو مشائخ نے اپنی خانقاہوں کو چھوڑ دیا، سب مل کر چلے ہواﺅں کا رخ بدلہ، طوفان بن کر اٹھے اور آندھی بن کر چھائے، صاحبان بصیرت نے اپنی کشتیاں جلا دیں، قدریان ملت نے اپنے آشیانے خود بجلیوں پر گرا دےے، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتیں لوٹی گئیں، لڑکیاں اپنی عزتیں بچانے کے لیے کنوﺅں میں چھلانگیں لگانے لگیں۔ ہر طرف بے گوروکفن لاشے پڑے تھے۔ کوئی دفنانے والا نہ تھا۔ اس قدر قربانیاں دے کر اور لازوال محنت کے بعد یہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل ہونے والا ملک اللہ تعالیٰ نے ہمیں عنائیت کیا ہے، لیکن آج میاں صاحب آپ اس ملک کے خلاف بول رہے ہیں، جس نے تین مرتبہ آپ کو وزیراعظم کے منصب پر بٹھایا۔ آج اسی تھالی میں چھید رہے ہیں، جس میں کھاتے ہیں۔ یہاں میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کی محبت میں ممبئی حملوں کا جھوٹا الزام تو پاکستان پر لگا رہے ہیں جس کے ثبوت انڈیا ابھی تک نہیں دے سکا بلکہ انہوں نے اپنے پاس موجود ایک ہی ثبوت اجمل قصاب کو بھی پھانسی پر لٹکا دیا اور پاکستان کے خفیہ ادارے کے سربراہ کو اجمل قصاب سے ثبوت حاصل کرنے کے لیے بھی ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن انڈیا کا وہ دہشت گرد جو پاکستان میں ناحق خون بہاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، اور وہ خود بھی تسلیم کر رہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نے کروائے ہیں اور بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کا ٹارگٹ بھی مجھے دیا گیا تھا۔
اس کلبھوشن یادیو کے خلاف آپ نے منہ سے ایک لفظ نہیں نکالا۔ کیا وہ آپ کا رشتہ دار تھا۔ آخر کیا وجہ تھی کہ آپ نے کلبھوشن کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ اس پر تو مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے آپ بھی پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوں آخر میں میاں صاحب میں آپ کو صرف یہی کہنا چاہوںگا کہ یہ غیرت مند قوم تمہیںکبھی معاف نہیں کرے گی۔ تو نے اس قوم اور ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ جو خود دہشت گردی کے خلاف ہزاروں قربانیاں دے چکی ہے، میاں صاحب اب ڈوب مریں کہ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ یہ شعر آپ کے نام کرتا ہوں
وطن فروش تیرے آخری بیان پہ تھو
غلاظتوں سے مرصع تیری زبان پہ تھو

اپنا تبصرہ بھیجیں