غدار‘‘ ’’غدار‘‘ کون؟ اب کیا؟…چودھری خادم حسین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں جو ’’چھوٹا دجال‘‘ ظاہر ہوا اور واحد سپر پاور کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دین اسلام کے پیروکاروں نے دانستہ یا نادانستہ ان تمام احکام اور آگاہیوں کو نظر انداز کیا ہے جو ان کے لئے مشعل راہ ہیں اور پیشگوئیوں کے انداز میں بھی بتائی جاچکی ہیں، اس وقت جو حالات ہیں ان کے مطابق تباہی کا سامنا مسلمان ممالک کو ہوا، الجزائر، لبیا، عراق اور مصر درجہ بدرجہ تاراج ہوئے اور بالآخر بے بس حکومتیں بناکر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں، اس پر اکتفا نہ کیا گیا، شام کو بھی کھنڈر بنانے کا سلسلہ جاری ہے اور مشرق وسطیٰ میں موجود مسلمان ممالک بھی ایک دوسرے سے تعاون نہیں کرتے بلکہ مخاصمت سے ٹکرا رہے ہیں جیسے قطر اور یمن ہیں، جو سعودی عرب کے ساتھ صف آرا ہیں اور ایران سے بھی سعودی حکومت کے تعلقات سخت ناخوشگوار ہیں، ایسے میں اسرائیل کی بن آئی ہے، ٹرمپ نے مسلسل، مسلم دشمن اقدامات جاری رکھتے ہوئے، امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کردیا اور نہتے فلسطینیوں کے احتجاج کے جواب میں اسرائیلی فوج جدید جنگی ہتھیاروں سے جو قتل عام کررہی ہے، اس کی بھی تائید کردی ہے، ایسے میں صرف ترکی ہے جہاں تڑپ پیدا ہوئی اور صدر اردوان نے سخت مذمت کی اور رویہ بھی ایسا ہی اختیار کیا ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی امریکہ کے سامنے بے بسی کے باعث ترک صدر نے اپنے ملک میں اسلامی کانفرنس کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے کہ شاید اب بھی رکن ممالک کے خون میں گرمی پیدا ہو، ورنہ اب ایران اور پھر پاکستان کی باری تو ہے۔

ان حالات میں خود پاکستان کے اندرونی حالات بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں، بیرونی تو پہلے ہی بہتر نہیں تھے، یہاں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے واقعی کشتیاں جلادی ہیں اور اب ان کے ارادے محاذ آرائی سے بڑھ کر نتیجہ خیز لڑائی کے نظر آرہے ہیں، انہوں نے حال ہی میں ڈان کے اسی کارکن صحافی کو انٹرویو دیا، جو پہلے بھی سلامتی کمیٹی ہی کی اندرونی بات چیت پر مبنی خبر فائل کرچکا اور وہ شائع ہوگئی تھی جس پر بہت واویلا ہوا اور تحقیقات کے بعد دو حکومتی وزرا کو عہدے چھوڑنا پڑے اور پی، آئی، او راؤ تحسین بھی زیر عتاب آئے اور یہ بھی آج کے دور کی بات ہے کہ ماضی میں خبر کو غلط کہنے والے اب خود کہہ رہے ہیں کہ وہ بالکل ٹھیک تھی۔

اس وقت جو صورت حال ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف فیصلہ کن جدوجہد کے عزم کو لے کر واضح طور پر مد مقابل آگئے اور مدمقابل نے ان کے تازہ انٹرویو کی روشنی میں سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس طلب کرکے جو متفقہ فیصلہ کرایا تھا، اسے بھی انہوں نے ببانگ دہل مسترد کردیا ہے، یوں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے اس انٹرویو کی جو تشریح کی اور دفاع کرنے کی کوشش کی وہ بھی اپنا سامنہ لے کر رہ گئے، وزیر اعظم نے تو اعلان کردیا ہے کہ وہ محمد نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر محمد شہباز شریف نے تو یہ تاثر دیا کہ وہ محاذ آرائی کے (بہر صورت) خلاف ہیں، یوں قائد مسلم لیگ کی مکمل حمائت کے باوجود بھی پالیسی کا اتنا اختلاف تو ضرور سامنے آیا ہے۔

سابق وزیر اعظم نہ صرف اپنے بیان پر قائم ہیں، بلکہ انہوں نے آگے بڑھ کر ’’ٹروتھ کمشن‘‘(حقائق کی تلاش والا کمشن) قائم کرنے کے اپنے مطالبے کو عملی طور پر پیش کردیا اور مطالبہ کیا کہ قومی کمشن بناکر تحقیق کی جائے تاکہ معلوم ہو کہ ’’غدار‘‘ کون ہے، یہ جو غدار والی بات ہے تو یہ بڑی عجیب ہے شاید پاکستان واحد ملک ہے جس میں سیاسی مخالفت پر غداری کا لیبل چسپاں کردیا جاتا ہے، خان عبدالغفار خان سے شروع ہو کر ان کے صاحبزادے ولی خان اور ان کے ساتھیوں پر بھی یہی مقدمہ قائم ہوا، نیشنل عوامی پارٹی کو غیر آئینی قرار دے دیا گیا وہ سب باہر آگئے اور جماعت الفاظ آگے پیچھے کرکے عوامی نیشنل پارٹی کے نام سے قائم ہے، اکبر بگتی بھی غدار قرار پائے اور پھر گورنر بھی بنے اور پھر دور مشرف میں دوبارہ القابات پانے کے بعد مارے گئے اور اپنے چاہنے والوں میں شہید کہلائے، ذوالفقار علی بھٹو کو ملک دشمن اور ان کی صاحبزادی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو سیکیورٹی رسک قرار دیا گیا، اب بات کرتے ہیں بڑے کردار شیخ مجیب الرحمن کی ان کو بھی اسی الزام میں اندر کیا گیا لیکن بعد میں رہا کرنا پڑا اور بالآخر بنگلہ دیش بھی نامنظور کی جگہ منظور ہوا، جہاں تک شیخ مجیب الرحمن کا تعلق ہے تو ان کے ارادے اور علیحدگی پسندی کے علاوہ بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ نہ صرف مکتی باہنی سے ثابت ہوا بلکہ بھارتی فوج نے باقاعدہ مداخلت کی اور بنگلہ دیش بنوایا، جس کا اعتراف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی کیا ہے۔

آج ملک کے جو حالات ہیں ان کے مطابق مغربی اور مشرقی سرحدوں پر سخت کشیدگی ہے، کنٹرول لائن میں جھڑپیں جاری ہیں، معاشی عدم استحکام، قرضوں کا بوجھ، بے روزگاری، مہنگائی، صحت اور تعلیم کے بے پناہ مسائل ہیں، ایسے میں ضرورت تو اندرونی استحکام اور قومی اتفاق رائے کی ہے لیکن بدقسمتی سے ایسا ممکن نہیں رہا اور اب تو سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کھل کر مقابلے کا چیلنج دیا ہے تو ان کو سینئر ساتھی جاوید ہاشمی بھی واپس مل گئے ہیں جنہوں نے کھلے بندوں افواج کو چیلنج دیا اور یوں محاذ آرائی کی کیفیت بیان کردی، خود محمد نواز شریف نے ’’ڈان لیکس‘‘ کی تائید کرکے بہت کچھ ظاہر کردیا ہے، ایسے میں قوم بھی بری طرح تقسیم ہے اور خدشات ہیں کہ عام انتخابات پر امن نہ رہ سکیں، عبوری حکومتوں کے لئے یہ بہت بڑا چیلنج ہوگا کہ باپ بیٹی کی مہم عوامی جذبے کو ابھارنے والی ہے، تاہم اب وہ اگلے مرحلے پر بھی آگئے ہیں ہمارے خیال میں وہ ایک حد تک اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہیں کہ احتساب والا سلسلہ ’’اوورشیڈو‘‘ ہوگیا ہے، بہر حال یہ صورت بہتر نہیں، جنرل قمر جاوید باجوہ متعدد بار ’’جمہوریت‘‘ کی کھلی حمائت کرچکے ہوئے ہیں اس لئے بہتر عمل افہام و تفہیم ہے جو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف کراسکتے تھے، شاید اب پانی سر سے گزر گیا۔.

ادھر پارلیمنٹ میں برسر اقتدار جماعت نے دوسرے ادارے ’’نیب‘‘ کے حوالے سے اپنے اختیارات کا مظاہرہ کیا ہے، پیپلز پارٹی نے اعتراض کیا دونوں رکن مجلس قائمہ کی رکنیت سے دستبردار ہوگئے مجلس قائمہ برائے قانون اور پارلیمانی امور نے چیئرمین نیب کو نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ والی پریس ریلیز کے حوالے سے کمیٹی کے اجلاس میں طلب کیا، یہ طلبی نکتہ اعتراض کے جواب میں ہے کہ تحریک استحقاق بنتی ہی نہیں، محترم نواز شریف ایوان کے رکن نہیں ہیں، یہ محاذ آرائی کی دوسری شکل ہے۔ہم نے بالارادہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف والی لڑائی سے الگ رہنے کی کوشش کی کہ ہماری رائے قومی اتفاق رائے کے حق میں ہے اور یہ ’’غدار‘‘ ’’غدار‘‘ والی رٹ چھوڑیں، تین مرتبہ کا وزیر اعظم غدار تو اس کے زمانہ اقدار کے اقدامات کیا ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں