دُرّ ِ یتیم کادرد۔۔۔سمیع اللہ ملک

اللہ تعالی کے محبوب مرسل حضرت محمد مصطفیﷺ کی والدہ ماجدہ کو ماں ہونے کا بلند مرتبہ عطا ہوا تو سچ مچ ماں کی عظمت اور وقار بلندیوں کو چھونے لگیں کہ مامتاکا پاکیزہ رشتہ عروج و کمالات سے مالا مال ہوا۔حدیث کے مطابق جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے تو اس والدہ ماجدہ کی شان کو بھلا کون پہنچ سکتا ہے۔سرکاردوعالم ﷺنے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن اقدس سے جنم لیا اور ان کی آغوش میں پروان چڑھے۔ اس لحاظ سے بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا تمام عالم کی خواتین میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں کہ خاتم الانبیا ﷺکو جنم دینے اور پالنے کا شرف آپ کے حصے میں آیا۔
بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کا تعلق عرب کے معزز ترین قبیلہ بنوقریش سے تھا۔ آپ کے والدوہب بن عبد مناف بن کلاب تھے اور والدہ بر بنت عبدالعزی بن کلاب تھیں۔آپ نہایت پرہیزگار اور پاکباز خاتون تھیں۔ آپ کا نکاح حضرت عبدالمطلب کے پیارے بیٹے حضرت عبداللہ سے ہوا۔ نکاح کے کچھ عرصہ بعد حضرت عبداللہ تجارت کے لئے شام کو روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچ کر آپ بیمار ہو گئے اور بیماری کی حالت میں واپس آرہے تھے کہ یثرب سے گزرتے ہوئے والد کے ننھیال میں ٹھہر گئے او وہیں۵۲سال کی عمرمیں وفات پائی۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد اس عالم میں بیوگی کا صدمہ اٹھایا کہ امام الانبیا ﷺان کے بطن مطہر میں پرورش پار ہے تھے۔
۰۲/اپریل ۱۷۵ءبروز پیر صبح کے وقت اللہ تعالی نے حضرت آمنہ کو وہ بیٹا عطا کیا جسے آگے چل کر تمام عالم کی فلاح کی ذمہ داری اٹھانا تھی۔ حضرت عبدالمطلب نے پوتے کی خوشی میں قربانی کے لئے اونٹ ذبح کئے اور سارے عرب میں غریبوں کو کھانا کھلایا۔ اس موقع پر تمام قبائل کے بڑے بڑے سرداروں نے بچے کود یکھا اور حضرت عبدالمطلب کو مبارکباد دی۔اس موقع پر آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے بچے کا نام محمدﷺیعنی بہت تعریف کیا گیا رکھا۔
حضور ﷺکی ولادت کے وقت عرب میں یہ رواج تھا کہ پیدائش کے بعد شرفا اپنے دودھ پیتے بچے کو اچھی تربیت اور پرورش کے لئے صحرا یا دیہات میں دایہ کے حوالے کر دیتے تھے تاکہ بچے باہر کی کھلی اور صحت بخش ہوا میں پرورش پاسکیں۔ جب حضورﷺ کی عمر مبارکہ چھ ماہ ہوئی تو آپ کو بھی قبیلہ بنی سعد کی ایک خاتون حضرت مائی حلیمہ سعدیہ کے سپرد کر دیا گیا۔
کچھ عرصہ بعد حضرت مائی حلیمہ آپ ﷺ کو واپس مکہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے پاس لائیں مگر شہر میں وبا پھیلی ہوئی تھی اس لئے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہانے اپنے نورِ نظر اور لخت جگر کو دوبارہ حضرت مائی حلیمہ کے سپرد کر کے واپس بھیج دیا۔جب مائی حلیمہ دوبارہ حضور اکرم ﷺ کو واپس لائیں تو ان کی عمر مبارک تقریباچھ سال تھی۔ آپ بڑے توانا او تندرست تھے گویا جس مقصد کے لئے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے اکلوتے فرزند کی جدائی کا صدمہ سہا تھا وہ پورا ہو چکا تھا۔ اب آپ ﷺ اپنی والدہ کے ہمراہ رہنے لگے۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیارے بیٹے کا بڑا خیال تھا۔ وہ آپﷺ کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتیں،آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی تھیں۔ حضرت عبداللہ کے انتقال کے بعد حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا ہر سال ان کی قبر کی زیارت کو مدینہ تشریف لے جاتیں۔
ساٹھ سترہزارکامجمعآخری حج کے سفرپررواں دواںاونٹنی کارخ ماں کی قبرکی طرف پھیردیایعنی ابوا کی طرف (جوکہ مدینہ سے ۹۴۲کلومیٹر دورمکہ کی جانب واقع ہے)۔ یہ ایک پتھریلا علاقہ ہے جو ایک پہاڑی کا ہموار حصہ ہے۔چشم تصور میں اپنے آقاکاوہ منظریادآگیاجب میرے آقابچپن میں اپنی والدہ محترمہ کاہاتھ تھامے اپنے والدکی قبرکی زیارت کیلئے تشریف لے گئے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جناب آمنہ بنت وہب حضرت عبداللہ کی قبرکی زیارت کے لئے مدینہ گئی تھیں وہاں انھوں نے ایک ماہ قیام کیا، جب واپس آنے لگیں توبمقام ابوا ءپر۵۲سال کی عمرمیںاپنے خالقِ حقیقی سے جاملیں اوروہیں دفن ہوئیں آپ کی خادمہ ام ایمن ، آپﷺکولے کرمکہ آئیں(گویاوالد محترم اوروالدہ محترمہ دونوں ۵۲سال کی عمرمیں خالق حقیقی سے جاملے)۔ (روضة الاحباب۱ ص۷۶)
میرے آقاﷺ(جن کے روضہ اقدس پرسترہزارملائکہ صبح فجرسے لیکرمغرب تک ،اورسترہزارملائکہ کی دوسری جماعت مغرب سے لیکرفجرتک حاضرہوتی ہے اورپھرقیامت تک ان ملائکہ کی باری نہیں آئے گی اوریہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا)آج اپنی ماں کی قبرپریوں حاضری دے رہے ہیں کہ باپ عین عالم شباب میں سال کی عمرخالق حقیقی سے جا ملے اورماں بھی عین جوانی میں سال کی عمرمیں در ِ یتیم کوسات سال کی عمرمیں چھوڑکراپنے شوہرنامدارکوملنے کیلئے اپنے رب کے ہاں حاضرہوگئیں۔
میرے آقاﷺکووہ تمام مناظرازبرتھے کہ صرف تین افرادکایہ قافلہ تھا۔والدہ محترمہ نے اپنے لال کاتھ تھاماہواتھااورخادمہ ام ایمن بھی ہمراہ تھیں۔اچانک طبیعت خراب ہوگئی اوراسی پتھریلی زمین پرلیٹ گئیں،جسم پسینے میں شرابوراوربولا نہیں جارہاتھا،باربارکروٹ بدل رہی تھیں۔شائداپنے معصوم بچے کے سامنے اپنی تکلیف کوچھپانے کاعمل ہوکہ بیٹا پریشان نہ ہوجائے۔آپ سہمے ہوئے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نجانے اب کیاہوگا۔
پھراس عظیم ماں کی زبان سے آخری کلمات اداہوئے”کل حیی میت وکل جدید بعدلبیک”ہرزندہ نے مرناہے اورہرجوانی نے ڈھلناہے،لبیک میراآخری وقت آگیاہے۔”ولقدولد الطحرا”میں نے ایک پاکیزہ ہستی کوجنم دیاہے۔ اس کے بعدوہ پاکیزہ شمع بجھ گئی۔میرے آقاﷺنے جب ماں کورخصت ہوتے دیکھاتوبے ساختہ رقت اورہچکیوں کے ساتھ روناشروع کردیا۔اپنے ہی سینے سے منہ لگائے اس قدرروئے کہ سینہ مبارک ترہوگیا۔ہائے ہائےاس وقت آنسوپونچھنے والاکوئی بھی نہ تھا، بڑی دیر تک در ِ یتیم ماں کی قبرکے سرہانے بیٹھے اپنے آنسوﺅں کاخراج پیش کرتے رہے۔قبرکے اردگردپتھرجوڑکرنیچے اترے ہی تھے کہ فورا بے ساختگی سے دوڑکردوبارہ قبرپرپہنچ گئے۔ام ایمن یہ منظردیکھ کرپیچھے دوڑیں۔جب قریب آئیں توکیادیکھتی ہیں کہ میرے آقاﷺاپنی ماں کے قبرکے ساتھ چمٹ کراس کے اوپرلیٹے ہوئے یہ فرمارہے تھے ۔
” بے تحاشہ محبت کرنے والی ماں!تجھے توخبرتھی کہ اس دنیامیں تیرے سوامیراکوئی نہ تھا۔مجھے چھوڑکرتم کہاں چلی گئی ہو”۔
یوں لگ رہاتھاکہ میرے رب نے چودہ صدیوں کے تمام پردے الٹ دیئے ہیں ،میری اپنی حالت اس قدرغیرہوگئی کہ کھڑے ہونے کی سکت نہیں رہی اورمیں بھی بے اختیار آنکھیں بندکرکے بیٹھ گیااورچشم تصورمیں اپنے آقاﷺکے بچپن کے تمام مناظرمیری آنکھوں کے سامنے آنے شروع ہوگئے۔میں بے اختیارسوچنے لگا،اے ارض وسماکے مالک !جسے تونے اپناحبیب اورتمام جہانوں کیلئے رحمت العالمین بنایا،اسے اتنے بڑے دکھ اورصدمے میں مبتلاکردیاباپ دیکھانہیں، کوئی بھائی اوربہن نہیں جواس صدمے میں سینے سے لگاکرتسلی اورحوصلہ دے اورمیرے آقاﷺکے ان آنسوﺅں کواپنے دامن میں سمیٹ لےاگریہ واقعہ مکے میں رونماہوجاتاتوچلووہاں محبت کرنے والادادا، خاندان کے دوسرے عزیزواقارب اس گھڑی میں غم بانٹنے کیلئے اردگردموجودہوتے۔بیاباں جنگل ،پتھریلے پہاڑوں اورصحرامیں یہ غم دیکھنے کوملادل سے ایک ہوک اٹھی، یامیرے رب!توواقعی بے نیازہے۔ ام ایمن نے اپنے بازوﺅں میں لیتے ہوئے التجاکی،اٹھوبیٹا،میرے آقاﷺنے اپنے آنسوﺅں سے ترچہرے سے جواب دیاکہ”نہیں، میں نہیں جاﺅں گا،مجھے اپنی ماں کے پاس ہی رہنے دو”ام ایمن فرماتی ہیں کہ میں زبردستی اس ننھے شہزادے کوقبر سے اٹھاکرلائی۔
میرے آقاﷺآخری حج کے سفرمیں اپنے رب کے حضورمناجات کیلئے تشریف لیجارہے ہیں ،شدیدگرمی کامہینہ،آپ نے اپنی اونٹنی کامنہ ابوا کی طرف موڑدیااورسترہزارکا قافلہ اپنے آقاکے پیچھے رب کی تسبیح بیان کرتے ہوئے گامزن ہے۔ ستاون برس گزرگئے،اتنابڑازخم اورصدمہ نجانے کیسے بھراہوگا۔کہاں وہ بچپن کاچھٹاسال اورآج میرے آقا ﷺتریسٹھ سال کی عمرمیں،میرے آقا اپنی ماں کی قبرکے سرہانے تشریف لائے،اونٹنی کوبھی فاصلے پربٹھادیا،اس عظیم ہستی کی آخری آرام گاہ کی پتھریلی زمین پردوزانوہوکر، سرگھٹنوں میں جھکاکربیٹھ گئے جس طرح بچپن میں اپنی ماں کے پاس بیٹھے تھے جب وہ انتہائی تکلیف میں بے چین ہوکرکروٹیں بدل رہی تھیں۔یقیناوہ سارے مناظریادآگئے تو بے ساختہ پھوٹ پھوٹ کراسی طرح روناشروع کردیاجس طرح وہ بچپن میں اپنی والدہ مرحومہ کواپنے ہاتھوں لحدمیں اتارتے ہوئے بےتاب ہوئے تھے،جس طرح بے تابی میں ام ایمن کاہاتھ چھڑاکر دوڑکرقبرسے چمٹ گئے تھے۔آج ایک مرتبہ پھران مبارک آنسوﺅں کی برسات ریش مبارک کوترکرتی ہوئی سینہ مبارک پرطوفان برپاکررہی تھیں اورآج بھی کوئی چپ کرانے والانہ تھاکہ صحابہ کرام کی پوری جماعت حزن وملال کے اس مناظرمیں ماں بیٹے کی ملاقات میں حائل نہیں تھے اورادب کی بنا پرایک فاصلے پربیٹھے اپنے آقا ﷺکی اس جذباتی اوررومانی کیفیت کودیکھ کربے چین ہورہے تھے۔کافی دیرتک نجانے اپنی والدہ محترمہ سے کیاباتیں کرتے رہے کہ بچپن میں ماں کوابھی جی بھرکردیکھابھی نہیں ہوگا،لاڈوپیارکاوہ سارازمانہ اب آنکھوں کے سامنے آرہاہوگاجس کی بنا پرحزن وملال کی کیفیت بے چین کررہی تھی،دائمی جدائی کے تمام مناظرآج یکجاہوکرمیرے آقاﷺ کو مضطرب کررہے تھے۔طبیعت اس قدربے چین ہوئی کہ آپ نے اپنے تمام ساتھیوں کوارشادفرمایا: میں آج رات یہاں ہی قیام کروں گااوروہاں نہیں گئے جہاں قیام کیلئے بندوبست کیاگیا تھا،اپنی ماں کے سرہانے ساری رات قیام فرمایا۔
حضور نبی کریم ﷺ بڑے مضبوط دل اور حوصلہ مند انسان تھے ۔ مشکل سے مشکل وقت اور کڑے سے کڑے حالات میں بھی آپ صبر و ضبط کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے ۔ آپ ﷺنے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو صبروتحمل ، شجاعت اور مردانگی کا سبق دیا لیکن ان کی زندگی میں بھی چند مواقع ایسے آئے جب ان کی مبارک آنکھیں بے اختیار اشک بار ہوگئیں۔
ان میں سے ایک موقع وہ تھا جب غزوہ احد میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ ان کے گھر تشریف لے گئے ان کے بچوں کو پیار کیا اور ان کی شہادت کی خبر ان کی رفیقہ حیات کو دی ۔ اس موقع پر آپﷺ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
ایک موقع وہ تھا جب آپ ﷺکے ڈیڑھ سالہ فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ انتقال کر گئے۔ اس وقت بھی ہزار ضبط کے باوجود آپ کی آنکھیں پر نم ہوگئیںاور ایک موقع وہ تھا جب غزوہ بد رسے آپ ﷺ غزوہ سے فارغ ہونے کے بعد اپنی والدہ محترمہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کی قبر مبارک پر حاضر ہوئے جو اسی نواح میں تھی۔ وہاں آپﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تعجب سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !آپ کی آنکھوں میں آنسو ؟مطلب یہ تھا کہ آپ تو فرمایا کرتے ہیں کہ مرتے والوں پر رونا نہیں چاہیے لیکن اب آپ جیسے جری اور مضبوط انسان کی آنکھیں بھی نمناک ہیں۔
اس موقع پر آپ ﷺنے جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک بیٹے کی طرف سے اپنی والدہ محترمہ کی جناب میں نذرانہ عقیدت و احترام ہے۔ان آنسوو ں کو کم حوصلگی یا تھڑ دلی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ توبے اختیار آنسو ہیں جو اس حرم محترم میں حاضری کا خراجِ عقیدت ہے ۔ یہ ماں کے ان قدموں میں، جن کے نیچے جنت ہوتی ہے، گلہائے عقیدت کے طور پر آنسوو¿ں کا گلدستہ ہے۔جن کے ہاتھ میں جنت کی کلیدہے اورجن سے پہلے کوئی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔آپ کاارشادگرامی ہے کہ سب نبیوں پرجنت حرام ہے جب تک میں جنت میں داخل نہ ہو جاﺅں،وہ اپنی ماں کیلئے ایسے بے قرارہیں۔ میرے آقاکی اپنی والدہ ماجدہ کے بارے میں جوتعلیم ہم تک پہنچی ہے اس سے بہتربھلاماں کی محبت کاتذکرہ کہاں سے دستیاب ہوسکتاہے،”میری ماں مجھے ”محمد“ﷺکہہ کرپکارے تومیں اپنی نمازتوڑکران کی خدمت میں حاضرہوجاو¿ں“۔ سبحان اللہ
ان دنوں ہم بھی مغرب کی تقلیدمیں پچھلے کئی برسوں سے ”مدرڈے “کاتہوارمنانے میں بڑاتفاخرمحسوس کرتے ہیں۔چل¾ے آج ایک چھوٹی سی کہانی پراس مضمون کوختم کرتاہوں جومجھے ایک پڑھی لکھی ماں نے سنائی جس کے بچے ان سے دوربیرونِ ملک میں مقیم تھے۔ وہ ایک کالج کی پرنسپل رہ چکی ہیں۔ساری عمردرس وتدریس میں گزاردی۔اب بھی کئی غریب بچیوںکی کفالت انتہائی پردہ داری اورخاموشی کے ساتھ سرانجام دیتی ہیں۔ مجھے اس بات کاکبھی پتہ نہ چلتااگربوڑھاڈاکیامجھے اس کی اطلاع نہ دیتا۔ایک دفعہ میںان کے گھرکے سامنے سے گزررہاتھاتومجھے روک کرمیرے کل شام کے ٹی وی پروگرام پر تبصرہ فرمانے لگیں۔مجھے جہاںان کی علمی گفتگونے حیران کردیاوہاںان کی لاجواب یادداشت نے میرے دل ودماغ کے کئی چراغ روشن کردیئے۔میںجتنی دیرپاکستان میںرہتاہوںان سے جی بھرکرباتیںکرتاہوں،ان کی ڈھیرساری باتیںسنتاہوںجووہ ساراسال میرے لئے جمع کرکے رکھی ہوتی ہیں۔یہاں سے میںجب ٹیلیفون پران کوسلام کرتاہوںتو ان کی خوش کلامی سے میرادل معطرہوکے رہ جاتاہے لیکن مختصر سی بات کرکے یہ کہہ کرختم کردیتی ہیںکہ تمہیںخواہ مخواہ اس کازیادہ بل آئے گا۔ آو¿گے توخوب باتیںکریں گے۔
دوران قیام ایک دن خودبخود میرے پاو¿ں ان کے گھر کی سمت چل پڑے۔ وہ مجھے باہر ہی مل گئیں۔ کیسی ہیں آپ ماںجیبہت شرمیلی ہیںوہ ،مسکرائیں اور کہنے لگیں تم کیسے ہو؟ آج صبح سویرے ہی جی ماںجی آپ کو سلام کرنے آگیا۔انہوں نے پھولوں کاایک گلدستہ تھام رکھاتھا۔میں نے ان پھولوں کی بابت پوچھاتوانہوں نے جواب دیا کہ میرے تینوں بیٹے امریکامیں مقیم ہیں،سب سے چھوٹے بیٹے نے یہ پھول بھیجے ہیں کیونکہ آج ”مدرڈے “ہے ناں!میں نے بھی انہیں مدرڈے کیلئے جب”وش“Wish کیا
تودعائیں دینے لگیں”جیتے رہو میرے بچے ،سدا خوش رہو، خوشیاں دیکھو۔ ان کی آواز کا زیرو بم میں کیسے تحریر کروں اور ان کے آنسو کیسے صفحہ پر بکھیروں۔ تھوڑی دیرآسمان کی طرف ٹکٹکی باند ھ کر دیکھتی رہیں،بالکل گم سم۔آپ ٹھیک توہیںماںجی!میری آوازسن کرچونک سی گئیںاورواپس اسی دنیامیںلوٹ آئیں۔اب توتمہارے سر کے بالوںاورداڑھی میںکافی سپیدی آگئی ہے ،کیاتمہارے پوتے پوتیاںتم سے کہانی سننے کی فرمائش کرتے ہیں؟جی ہاں،کبھی کبھار،وگرنہ آج کل تواسکول کاہوم ورک اوربعدمیںکمپیوٹرپربچوں کی مصروفیت کے بعددوستوںسے موبائل فون کی گپ شپ اورٹیکسٹ پیغامات نے توگھرمیںعجیب اجنبیت پیداکررکھی ہے کہ بچوںکے پاس اب بڑوں کے پاس بیٹھنے کی فرصت کہاں؟
تم نے مجھے ”مدرڈے“ پرWishکرکے ماںجی تومان لیااوراس میں کوئی شک بھی نہیںکہ میںتم سے عمرمیںکافی بڑی ہوں۔چلوآج ہم دونوںایک بھولی بسری روائت کوقائم
کرتے ہیں۔کہانی سنوگے؟انہوںنے اچانک مجھ سے یہ فرمائش کردی۔”ضرور،کیوںنہیں،مدت ہوئی مجھے کوئی کہانی سنے ہوئے“۔انہوںنے ایک کہانی سنائی۔ آپ بھی سنیں:
ایک شخص اپنی ماں کو پھول بھجوانے کا آرڈر دینے کے لیے ایک گل فروش کے پاس پہنچا۔ اس کی ماں دو سو میل کے فاصلے پر رہتی تھی۔ جب وہ اپنی کار سے نیچے اترا تو اس نے دیکھا کہ دکان کے باہر فٹ پاتھ پر ایک نوعمر لڑکی بیٹھی سسکیاں بھر رہی تھی۔ وہ شخص اس لڑکی کے پاس آیا اور اس کے رونے کا سبب پوچھا۔لڑکی بولی: میں اپنی ماں کے لیے سرخ گلاب خریدنا چاہتی ہوں لیکن میرے پاس صرف پچاس پنس ہیں جبکہ گلاب کی قیمت دو پاو¿نڈ ہے۔یہ سن کر وہ شخص مسکرایا اور اسے دلاسا دیتے ہوئے بولا ،میرے ساتھ اندر چلو میں تمہیں گلاب دلادیتا ہوں۔ اس نے بچی کو گلاب خرید کر دے دیا اور اپنی ماں کے لیے پھولوں کا آرڈر بک کروایا۔ دکان سے باہر آنے کے بعد اس نے لڑکی کو گھر تک پہنچانے کی پیشکش کی۔ یس پلیز !لڑکی نے جواب دیا آپ مجھے میری والدہ کے پاس لے چلیں۔ لڑکی کی رہنمائی میں وہ ایک قبرستان تک پہنچے۔ لڑکی نے وہ سرخ گلاب ایک تازہ بنی ہوئی قبر پر رکھ دیا اور دعا مانگنے لگی۔ وہ شخص پلٹ کر گل فروش کے پاس پہنچا اس نے اپنا آرڈر منسوخ کرادیا اور ایک گل دستہ لے کرفوری اپنی ماں سے ملنے کے لیے روانہ ہوگیا۔
آخری فقرہ کہتے ہوئے ان کی آوازکپکپانے لگی تومیںنے اپنی جھکی گردن اٹھاکران کے چہرے پرنظرڈالی توانہوںنے منہ پھیرلیاکہ میںان کی آنکھوںکی چغلی نہ پکڑلوں۔ سنا ہے تم اخبارات میںلکھتے ہو۔”لگتاہے جوبچے اپنی ماو¿ںسے ہزاروںمیل دوررہتے ہیں،اب کیاوہ اپنی ماںکی قبرپرسرخ گلاب رکھ کرہی محبت کااظہارکریںگے؟ کتنا مشکل ہے اس طرح جینا! “اس سوال کاہے کوئی جواب آپ کے پاس! اگرنہیںتوپھرجلدی کیجئے کہ ہمارے لئے توہردن ہرلمحہ”مدرڈے“ہے اوریہی تعلیم میرے آقاخاتم النبینﷺ کی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں