مدر ڈے نہیں مدر کئیر ۔۔۔ : ڈاکٹر تصور حسین مرزا

ہر سال کی طرح اس سال بھی  13 مئی 2018 کو مدر ڈے کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ لوگ اپنی اپنی ماوں کو تحفہ تحائف دینگئے ، پردیسی لوگ لمبھی لبھی کالیں کریں گئے، کچھ اپنی اپنی جنتوں کے ساتھ سیر و تفریح کو جائیں گئے۔ کچھ لوگ ماں کی عظمت پر واک کریں گئے خطابات کئے جائیں گئے۔ اور ایسے لوگ جن کی مائیں ” اللہ پاک کے پاس چلی گئیں ہیں “ وہ دُعاِ ختم اور ماو¿ں کی قبروں کی زیارت کر کے دلی سکوں حاصل کریں گئے۔ماں ایک ایسی ہستی کا نام ہے جو محبت پیار اور خلوص کا پیکر ہوتی ہے۔ انسان تو انسان ممتا کی تڑپ تو ہم کو جانوروں ، درندوں ، پرندوں حتیٰ کہ تمام مخلوقات میں نظر آتی ہے ۔ جہاں تک انسان اور انسانیت کی بات ہے۔ تو اشرف المخلوقات کا کیا کہنا اور اشرف المخوقات سے بھی انسانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز محسن انسانیت سردار الانبیاءحضرت محمد ﷺ کا فرمان عالی شان ماں کی شان میں سبحان اللہ !
”کااش میری ماں زندہ ہوتی اور میں عشاءکی نماز کے لئے مصلیٰ پر کھڑا ہوتااورسورہ فاتحہ شروع کر چکا ہوتا، ادھر سے میرے گھر کا دروازہ کھلتا اور میری ماں پکارتی” محمد“(ﷺ) تو میں ان کے لئے نماز توڑ دیتا اور میں کہتا ” لبیک یا اماں“
یہ فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے !مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام ِ ابواءکی پہاڑیوں اور بیا بانوں میں وہ جگہ جہاں پیارے پیارے مدنی مکی تاجدارِ مدینہ نبی احمد مجتبیٰ ﷺ کی والدہ محرحومہ و مغفورہ حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہاکی قبر مبارک ہے، آپ ﷺنے اپنی والدہ کی قبر مبارک کے سرہانے بیٹھ کر سر گھٹنوں میں دے کر پیارے آقا ﷺ نے ہچکیاں لیکر اپنی والدہ کی جدائی میں گھنٹوں کے حساب سے روئے حتیٰ کہ داڈھی مبارک بھی آنسو¿ںمبارک سے تر ہوگی تھی ۔ اس وقت آپ ﷺ کی دنیاوی عمر 53 سال تھی اور جب نبی آخر الزماں ﷺ والدہ کے ساتھ سفر پر اسی مقام پر پہنچے تھے اُس وقت سارے جہانوں کے سردار، محسن انسانیت پیارے آقا حضرت محمد ﷺ کی عمر مبارک 6 سال تھی جب ماں اور بیٹے میں دنیاوی جدائی اللہ پاک کے حکم سے آئی تھی۔میٹھے میٹھے آقاﷺ چھ سال کی عمر میں والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوگیا تھا۔
نبی کریم ﷺکا فرمان عالی شان ماں کی محبت میں اوپر بیان سے آپ کی ممتا سے محبت کا منہ بولتا ثبوت عاشقانِ مصطفےٰ ﷺ کے لئے مشل راہ ہے!
ہم پیارے نبی ﷺ کی محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگراس دعویٰ کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے آپ ﷺ کے فرمودات پر عمل نہیں کرتے ۔ محبت رسول ﷺ کا تقاضہ ہے ۔ اللہ پاک کے پیارے نبی ﷺ کی طرح ہم بھی ” اپنی ماں “ سے اتنی محبت کریں ۔ یقین مانیں جو لوگ سچے عاشق ِ رسول ﷺ ہے وہ اپنی ماو¿ں سے ایسی ہی لازوال اور بے مثل محبت کرتے ہیں یہ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں ہی جنت خرید لی ہے۔ اللہ پاک کا ارشاد گرامی ہے
”اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا“(سورہ بنی اسرائیل )
آجکل مغرب اور یورپ کی دیکھا دیکھی یہ فیشن بن گیا ہے کہ دیگر یوم کی طرح بڑے اہتمام سے ”مدر ڈے “ منایا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے موبائل فون پر ماں کی شان میں پیغامات کی بھرمار اور دیکھاوے کے لئے اولاد اپنی ماں کے ساتھ سلفیاں بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر رہی ہے۔ کوئی قبرستان میں جا کر ماں کی قبر پر کھڑے ہو فوٹو بنا رہا ہے۔ کچھ اپنی ماو¿ں کے جگر گوشے ایسے بھی ہیں جو نئے کپڑے جوتے کھانے پینے کی اشیاءحسبِ توفیق ماں کو دیکر سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے ماں کا حق ادا کر دیا۔مجھے اس بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارا تعلق ” اسلام “ دین ِ فطرت سے ہیں اور اللہ پاک کا پسندیدہ دین اسلام ہے ۔ اسلام میں اعمال کا دارومداد ” نیت “ پر ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی نصیب ہو تو پھرمدر ڈے منانے سے نہیں بلکہ ساری زندگی کا عہد کرنا ہوگا کہ والدین (ماں یا باپ) کے آگئے نہیں چلیں گئے۔ والدین سے پہلے اگر کھڑے ہیں تو بیٹھیں گئے نہیں اور اگر بیٹھیں ہیں تو کھڑے نہیں ہوں گئے۔اسی طرح ان کے سامنے ایسا کوئی کام نہیں کریں گئے جو ان کو ناگہوار گزرے۔ ماں باپ کے پاس روزانہ ” زیارت “ کی نیت سے بیٹھیں گئے۔ گھر میں وہ چیز ہی پکائیں گئے جو ان کی پسندیدہ ہو۔بیماری کی حالت میں اگر ادویات وغیرہ وہ کھانے سے انکار کردیںتو خندہ پیشانی سے درگزر کردیں گئے۔ والدین کے سامنے اونچی آواز جس سے بے ادبی کا پہلو نکلتا ہو نہیں نکالیں گئے۔ والدین کا موسم کے حساب سے گرمی سردی صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنا ہوگا۔
اللہ پاک نے اپنی بندگی کے ساتھ ساتھ ماں باپ کے ساتھ احسان ِعظیم کرنے کا حکم دیا ہے۔
اکثرو بیشتر گھروں میں لڑائی جھگڑے ہو جاتے ہیں ، عمر کے بڑھنے کے ساتھ دیگر اعضاءکی طرح دماغی کمزوری کی وجہ سے بچگانہ حرکات و سکنات اور غصہ عموماً زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اللہ سے صبر جمیل اور صبر جمیل پر اجر عظیم مانگنا چاہیئے ۔ عموماً لوگ کہتے ہیں کہ غلط بات ہم سے برداشت نہیں ہوتی حالانکہ سب جانتے ہیں غلط بات کو تحمل سے سننا ہی برداشت اور صبر ہوتا ہے کیونکہ صحیح بات برداشت نہیں تسلیم کی جاتی ہے۔ کہنے کا مقصد ہے والدین کے معاملے میں ” انصاف نہیں احسان “ کا حکم ِ خداوندی ہے۔
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپﷺ پر نازل الہامی و لاریب آخری کتاب ہے اور یہ کتاب ہدایت وانقلاب ہے اس میں ماں باپ سے حسن سلوک اور خدمت کا حکم اللہ تعالیٰ کی توحید اور عبادت کے ساتھ ساتھ دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اعمال میں اللہ کی عبادت کے بعد ماں باپ کی خدمت انسانی معراج کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے۔اس لئے مدر ڈے نہیں بلکہ مدر کیئر کی طرف آنا ہوگا

اپنا تبصرہ بھیجیں