استقبال رمضان ،ماہِ غفران اور ہمارا عمل ۔۔۔راشد علی

تمام مہینے اللہ تبارک وتعالیٰ نے بنائے ہیں مگر جوفضیلت رمضان المبارک کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے مہینے کو حاصل نہیں ہے اس متبرک مہینہ میں اﷲتعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید فرقان حمید کو نازل فرمایااسی مہینہ میں اﷲتعالیٰ نے لیلة القدر جیسی نعمت عطا فرمائی یہ رات ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے اللہ تعالیٰ نے اس رات کو خیر من الف شھر سے تعبیر کیا ہے اس ماہ مبارک میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے یہ ماہِ رمضان اﷲتعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے یہ صبر فراخی رزق ایک دوسرے سے خیر خواہی کا مہینہ ہے یہ ماہِ مقدس ہر سال اپنی گوناگوں خصوصیات کے ساتھ آتا ہے اور چلا جاتا ہے لیکن خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس ماہ مقدس کو پاتے ہیں اور اپنے رب سے اپنے گناہوں کو بخشوالیتے ہیں اور اپنی مغفرت کا پروانہ حاصل کرلیتے ہیںاور بد نصیب ہیں وہ لوگ جو اس ماہ مقدس کو لہو و لعب اور شیطانی کاموں کے نذر کردیتے ہیں اور بعد میں کفِ افسوس ملتے ہیں ۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں اس مہینہ کی فضیلت اوراہمیت کو اجاگر کیا ہے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ماہ مبارک کے فضائل اورخصوصیات بیان فرمائی ہے جیساکہ ارشاد نبوی ہے لوگو!ایک بہت بڑے اور بابرکت مہینے نے اپنے سایہ رحمت کے نیچے تمہیں لے لیا ہے اس مہینے کی ایک رات ایسی ہے جو اپنے فضائل و برکات کے لحاظ سے ہزار ماہ سے بہتر ہے اس مہینے کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کئے ہیں اور رات کے قیام و نمازِ تراویح کو نفل قرار دیا ہے اس مہینے میں جس کسی نے نفل عبادت کے ذریعے تقرّب الٰہی حاصل کیااس کا اجر و ثواب ویسا ہی ہو ا جیسا کہ رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں فرض کا ہوتا ہے اور جس کسی نے اس مہینے میں فرض عبادت ادا کی اس کا اجر و ثواب اس قدر ہو گا جس قدر کہ رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں ستر مرتبہ ادائیگی فرض کا ہوتا ہے یہ صبر و برداشت کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب اللہ کے ہاں جنت ہے یہ مہینہ ایک دوسرے کے ساتھ نیک سلوک اور احسان و مروت کا مہینہ ہے اس مہینے میں مومن کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے جس کسی نے اس مہینہ میں روزہ دار کا روزہ افطار کرایا تو یہ عمل اس کے گناہوں کی بخشش اور دوزخ سے نجات کا ذریعہ ہو گا اور روزہ افطار کرانے والے کو ویسا ہی روزے کا ثواب ملتا ہے جیسا کہ خود روزہ رکھنے والے کو بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں سے کچھ کم کیا جائے صحابہؓ نے عرض کیا کہ بعض لوگ اس قدر استطاعت نہیں رکھتے کہ روزہ افطار کرا سکیں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہی ثواب اس شخص کو بھی دیگا جو روزہ دار کا روزہ ایک کھجور یا دودھ یا پانی کے ایک گھونٹ سے بھی افطار کرائے البتہ جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا یہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ ہو ا اور اسے اس کا پروردگار میرے حوض سے ایسا مشروب پلائے گا جس کے بعد اسے کبھی بھی پیاس نہیں ستائے گی اس مہینہ کا پہلا عشرہ کہ موجب رحمت الٰہی اور درمیان کا موجب مغفرت الٰہی اور آخری عشرہ عذاب جہنم سے نجات کا موجب ہوتا ہے جس کسی نے اس مہینہ میں اپنے غلام کی محنت و مشقت میں تخفیف کر دی اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور دوزخ سے نجات دے گا ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسالت مآب نے ارشاد فرمایا جس نے ایمان اوراجر کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے ایک تیسری روایت میں ہے کہ جس نے ایمان اور اجر کی نیت سے رات کا قیام کیا اللہ تعالیٰ اس بندے کے تمام گناہوں کو بخش دے گابلاشبہ جمہور محدثین کے نزدیک یہ مہینہ مغفرت اورجہنم سے نجات کا مہینہ ہے امام ترمذی رحمہ اللہ جامع ترمذی میں روایت لے کر آئے ہیں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اورسرکش جنوں کو بیٹریاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے جکڑ دیے جاتے ہیں اوران میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا اورجنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ایک پکارنے والا پکارتا ہے اے خیر کے طالب آگے آ ،اے شر کے متلاشی رک جا ،اوراللہ تعالیٰ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کردیتا ہے اورایسا ہر رات ہوتا رہتاہے امام بخاری ؒ صحیح بخاری میں روایت لے کر آئے ہیں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ایک رمضان سے دوسرے رمضان ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتے ہیں جب تک کہ انسان گناہ کبیرہ نہ کرے قارئین کرام آئیے استقبال رمضان کی سعادتوں سے اپنے سینوں کو روشن کریں آئیے اپنی زندگی کو نیکی اوربھلائی سے عبارت کریں سختیاں اورتلخیاں بھلاکر خیر الناس ہونے کا سبق پڑھیں کعب بن عجرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورنے ارشاد فرمایا کہ منبر کے قریب جاو ہم لوگ حاضر ہو گئے ۔ جب حضور نے منبر کے پہلے درجے پر قدم رکھا تو فرمایا آمین جب دوسرے پر قدم رکھا تو فرمایا آمین جب تیسرے پر قدم رکھا تو فرمایا آمین جب آپ خطبہ سے فارغ ہوکر نیچے اترے تو ہم نے عرض کیا کہ ہم نے آج سے پہلے منبر پر چڑھتے ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت جبرائیل ؑ میرے سامنے تھے جب پہلے درجے پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان کا مبارک مہینہ پایا پھر بھی اسکی مغفرت نہیں ہوئی میں نے کہا آمین پھر جب دوسرے درجے پر چڑھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر مبارک ہو اور وہ درود نہ بھیجے میں نے کہا آمین جب تیسرے درجے پر گیا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے اس کے والدین یاان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کوپاویں اور وہ اس کوجنت میں داخل نہ کرائیں میں نے کہا آمین
رمضان لفظ رمض سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی حرارت اور تپش کے ہیں اس مہینے کا نا م رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ گناہوں کو اس طرح جلا دیتا ہے جس طرح انسان کے جسم کو آفتاب کی تپش جلادیتی ہے جیسا کہ درج بالا احادیث سے واضح ہوگیا ہے روزہ جفا کشی سکھاتا ہے حق پر ثابت رہنے کی قوت پیدا کرتاہے اور نظم و ضبط کی تعلیم دیتا ہے روزہ انسان کی دنیوی، روحانی، مادی، طبی،اخلاقی اورنفسیاتی ہر قسم کی برائیوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے علامہ ابن القیم ؒ کے ان الفاظ پر اکتفا کرنا چاہوں گا آپ فرماتے ہیں روزہ سے مقصود یہ ہے کہ نفس انسانی خواہشات اور عادتوں کے شکنجہ سے آزاد ہوسکے اس کی شہوانی قوتوں میں اعتدال اور توازن پیدا ہو اور اس کے ذریعہ سے وہ سعادت ابدی کے گوہر مقصود تک رسائی حاصل کرسکے اور حیاتِ ابدی کے حصول کے لئے اپنے نفس کا تزکیہ کرسکے بھوک اور پیاس سے اس کی ہوس کی تیزی اور شہوت کی حدّت میں تخفیف پیدا ہو اور یہ بات یاد آئے کہ کتنے مسکین ہیں جو نانِ شبینہ کے محتاج ہیںوہ شیطان کے راستوں کو اس پر تنگ کردے اور اعضاو جوارح کو ان چیزوں کی طرف مائل ہونے سے روک دے جن میں اس کی دنیا و آخرت دونوں کا نقصان ہے اس لحاظ سے یہ اہل تقویٰ کی لگام مجاہدین کی ڈھال اور ابرار و مقربین کی ریاضت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں