دشمن کی خبر ہے کچھ ۔۔۔تحریر حمید اللہ بھٹی

آٹھ سالہ ننھی آصفہ سے مندر میں ہونے والے انسانیت سوز ظلم کی داستان سے عالم آشنا ہو چکا ہے مقبوضہ کشمیر کی ایک عدالت نے صحافیوں کو اِس حوالے سے کسی قسم کی خبرنہ دینے کی تاکید کرتے ہوئے دھمکی بھی دی ہے کہ بچی یا اُس کے خاندان کے بارے میں معلومات دینے والے کو جیل بھیج دیا جائے گا اسی لیے قلم اُٹھاتے ہوئے صحافی اشارے کنائے میں بات کرتے ہیں اور مظلوم خاندان کے نام لکھنے سے اجتناب کرتے ہیں مگر یہ ایک ایسی ظلم کی داستان ہے جو بھی سُنتا ہے کانپ جاتا ہے اور بھارت میں اقلیتوں سے روا رکھا جانے والا سلوک عیاں کرنے کا باعث بنا ہے انسانی حقوق کی تنظیمیںغم و غصے میں ہیں لندن،پیرس اور جنیوا میں بھی کچھ مکاتبِ فکر نے لب کشائی کی ہے نیویارک میں مفصل رپورٹ کے ساتھ مظامین بھی شائع ہوئے ہیں بھارتی لابی یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش میں ہے کہ ایسا پاکستان میں بھی عام ہوتا ہے مثال کے طور پر قصور کے واقعات پیش کیے جاتے ہیںہمارا میڈیا کمسن بچیوں سے آبرویزی کی خبروں کو نمایاں طور پر شائع کرکے بھارتی موقف کی تصدیق کر رہا ہے جس سے شہ پا کر آصفہ سانحہ کوعام واقعہ تصور کرتے ہوئے روا مزہبی تعصب کی پردہ پوشی کی جارہی ہے افسوسناک امر یہ ہے کہ کشمیری مقدمے کا فریق ہو کر بھی پاکستان لا تعلق ہے روارویے کی سمجھ نہیں آتی۔
دس جنوری کو گھوڑے چراتے ہوئے آصفہ غائب ہوئی جب تلاش کا آغاز ہواتوقریبی واقف کاروں سے دریافت کیا گیا پھر گھر گھر جا کر پوچھ تاچھ شروع ہوئی اسی دورران عزیز اور واقف کار بھی آصفہ کو تلاش کرنے میںاعانت کرنے لگے مایوسی ہوکر جنگل میں ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوئے کہیں معصوم آصفہ کسی گڑھے یا کھائی میں نہ گِر گئی ہو اسی خیال کے تحت گڑھے اور کھائیاں بھی دیکھ لی گئیں لیکن معصوم بچی کے غیاب کا معمہ حل نہ ہوایادرہے کہ بچی کا گھوڑھے سے گرجانا بظاہر ناممکن تھا کیونکہ چھوٹی عمر کے باوجود گُھڑ سواری کے لیے کوئی اہتمام نہ کرتی بلکہ اپنے دوپٹے کو ہی لگام کے طور پر استعمال کرتی مگر دل کے ہاتھوں مجبورپریشان ماں باپ کوئی بھی ممکنہ پہلو نظر انداز نہیں کرنا چاہتے تھے اسی لیے کونہ کونہ چھانا جا رہاتھاروایتی خانہ بدوشوں کی طرح موسم اوررات کی تاریکی کی پرواہ کیے بغیر تلاش کی مہُم جاری رہی ۔
جنگل میں تلاش کرتے ہوئے کچھ لوگ مندرکے دروازے پر پہنچے اور نگران سانجی رام سے دریافت کیا تو نگران نے درشت لہجے میں چلے جانے کا کہہ دیا بھگا دیا اُس نے اپنی دست شناسی کے علم کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ تمھاری بچی محفوظ ہے لیکن اسی دوران بھوکی پیاسی بچی سے مندر میںکئی نوجوان مرد انسانیت سوز سلوک ہو رہے تھے جس کی پولیس اب تصدیق کررہی ہے ا جتماعی ریپ کے بعدبچی کو قتل کر دیا گیا یہ کوئی جنسی واقعہ نہیںبلکہ نسلی صفایاکی داستان ہے تاکہ خانہ بدوش بکر وال جن کی اکثریت مسلمان ہے کو ڈرادھمکا کر علاقے سے نکلنے پر مجبور کرنے کی دانستہ کوشش ہے قصور میں کم عمر بچیوں کی آبروریزی کے مرتکب شخص کی حمایت کی کسی کو جرات نہیں ہوئی مگرآٹھ سالہ آصفہ کی آبروریزی کے بعد قتل کرنے والوں کے حق میں جلوس نکلتے ہیں توبھارتیہ جنتا پارٹی کے مقبوضہ کشمیر کی مخلوط حکومت میں شامل وزراءبھی جلوسوں میں شامل ہوتے ہیں جن سے بعد ازاں استعفے لیے گئے لیکن وہ اب بھی ملزموں کو بچانے کے لیے احتجاج میں پیش پیش ہیں مدعی کے وکلا کو ہراساں کیا جاتا ہے خاندان خوف کی وجہ سے علاقہ چھوڑ چکا ہے اِس لیے قصور میں ہونے والے واقعات سے یہ واقعہ الگ اور نفرت کی انتہا کا مظہر ہے۔
سانجی رام ایک ایسا کٹڑ ہندو ہے جسے اپنے علاقے میں کوئی مسلمان ،سکھ یا کسی اور مزہب کا ماننے والا گوارہ نہیں لیکن خانہ بدوش جہاں چارے کی فراوانی دیکھتے ہیں کچھ دن پڑاﺅ کر لیتے ہیںاور چارے کی کمی ہوجائے تو کسی اور علاقے کی طرف ہجرت کر لیتے ہیں مگر مقبوضہ کشمیر میں تبدیلی آرہی ہے کچھ خانہ بدوش مکان بنا کر ایک ہی جگہ رہائش بنا کر مستقل رہنے کے ساتھ ہندو زمینداروں سے زمین خرید کر کاشت کاری بھی کرنے لگے ہیں لیکن راسخ العقیدہ ہندو اپنے ہم مزہبوں کی حد تک توایسا برداشت کر لیتے ہیں لیکن مسلمان بھی ایسا کریں انھیں سخت ناپسند ہے کیونکہ اِس صورت میں اُن کے ووٹ بن سکتے ہیں اور کشمیر کی آبادی میں اُن کا شمار ہو سکتا ہے ۔بکروال خانہ بدوش مسلمان کچھ خاندان رسانا کے قریب آباد ہورہے ہیں سانجی رام علاقے کو مسلمانوں سے پاک رکھنے کا خواہش مند ہے وہ ہندﺅں کو آباد ہونے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے لیکن مسلمان زمین کی منہ مانگی قیمت بھی دیں تو انکار کر دیا جاتا ہے یہی نفرت اور سوچ آصفہ کی زندگی کا دیا گُل کرنے کا باعث بنی ہے ۔
اپنے فرزند،بھانجے اور کچھ دوسرے نوجوانوں کوسانجی رام نے آصفہ کو اُٹھا کر مندر میں لانے کی شہ دی جس کے نظم و نسق وہ قادر ہے سانجی رام کی ہدایت پر ہی مسلمان بچی سے شرمناک کھیل کھیلا اور قتل کرکے لاش کھائی میں پھینک دی ہندو پولیس آفیسروں نے بھی اپنے ہم مزہبوں کو بچانے کی حتی المقدور سعی کی ثبوت مٹانے کے لیے لیبارٹری بھیجنے سے قبل لباس دھو کر صاف کر دیا جبکہ مندر کا فرش بھی اچھی طرح دھو کر شواہد مٹا دیے ملوث آٹھوں افراد نے جرم تسلیم کر لیا ہے لیکن ہندو زہنیت سیخ پا ہے اور ہر حال میں ملوث افراد کو رہا دیکھنے کی خواہشمند ہے اور اگر بات کی جائے تو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ایسے واقعات تو پاکستان میں بھی ہوتے ہیں لیکن کشمیر کے اہم فریق پاکستان کا موقف کیا ہے کچھ پتہ نہیں چل رہا اور وزارتِ خارجہ کے زمہ دار خاموش ہیں ایک عام جنسی واقعہ اور مزہبی تعصب کی بنا پر ہونے والے ستم میں فرق ہے مگر حیوانی سوچ کا پردہ کون چاک کرے گا؟حیوان تو خود کومعصوم ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں