مختصر کر چلے درد کے فاصلے…تحریر:سید شاہ زیب رضا

ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی جلیلہ حیدر ایڈوکیٹ، دختر بلوچستان گذشتہ چند دنوں سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہوئی ہے۔ جلیلہ حیدر کون ہیں اور کیوں احتجاج کررہی ہے اور کیا ضرورت پڑی انہیں کے وہ تادم مرگ بھوک ہڑتال جیسا انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں؟ جلیلہ حیدر ایک تعلیم یافتہ اور باشعور خاتون ہیں، تو ظاہر سی بات ہے انہوں نے یہ فیصلہ جذباتی ہوکر یا جلد بازی میں نہیں کیا ہوگا، تو ایسا کیا ہوا کہ ایک تعلیم یافتہ وکالت کے پیشے سے تعلق رکھنے والی خاتون کو مجبور ہونا پڑا کہ وہ احتجاج کا وہ راستہ اختیار کرے، جس کا انجام موت ہوسکتی ہے۔

جلیلہ حیدر انسانی حقوق کی علمبردار ہے اور وہ بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی پر واضح اور دوٹوک موقف رکھتی ہے اور بلوچ قومی جدوجہد کی حمایتی بھی ہے، جلیلہ کو لوگ یونا کارمل کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ میں نے جلیلہ حیدر کا نام اس وقت سنا، جب وہ بی ایس او آزاد کے سابقہ چیئرمین سنگت زاہد بلوچ کی اغواء نما گرفتاری کیخلاف ہونے والے تادم مرگ بھوک ہڑتال میں بیٹھنے والے لطیف جوہر کے ہمراہ تھی، اس دن سے لیکر ابتک جب بھی جلیلہ حیدر کو دیکھا، تو وہ انسانی حقوق کی پامالیوں، ریاستی دہشت گردی اور بلوچ نسل کشی پر سراپا احتجاج ہی نظر آئی ہے۔ بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کی خاطر جدوجہد کرنے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی حمایت میں بھی جلیلہ کا کردار سب کے سامنے عیاں ہے۔

جب بلوچ سماجی کارکن اور ادبی جہدکار واحد کامریڈ کو کراچی سے اغواء کیا گیا اور حانی بلوچ اپنے بابا کی بازیابی کیلئے دن رات جدوجہد کررہی تھی، تو جلیلہ ان چند لوگوں میں سے ایک تھی، جو حانی کے شانہ بشانہ کھڑی ہوکر واحد بلوچ کی بازیابی کے کمپئین کا حصہ تھی۔ جلیلہ نے ہمیشہ ہی مظلوم اقوام کے حقوق کیلئے بلخصوص بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی خواہ وہ بلوچ ہوں، پشتون ہوں، کرسچن یا ان کی اپنی قوم ہزارہ قوم کے لوگ ہوں، سب کیلئے آواز بلند کی اور ریاستی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کی بھر پور انداز میں مخالفت اور مذمت کرتی رہی ہے۔ اسی طرح پشتون تحفظ مومنٹ کو بھی کامریڈ جلیلہ حیدر کا بھر پور سپورٹ حاصل رہا ہے اور انہوں نے کوئٹہ میں پی ٹی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے، ریاستی دہشت گردی کیخلاف اپنا احتجاج جاری رکھا اور انہوں نے پشتونوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر ندامت کا اظہار کیا۔

ہزارہ قوم جوکہ کافی دہائیوں سے بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں مقیم ہیں، ان پر ریاستی سرپرستی میں چلنے والی مذہبی دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے حملوں میں ہزاروں لوگوں کو شہید کیا جا چکاہے، جس کا مقصد واضح طور پر بلوچستان میں جاری قومی آزادی کی تحریک کو دنیا کے سامنے ایک لسانی و مذہبی شدت پسندی ظاہر کرنا تھا، جس کو بلوچ جہدکاروں اور ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے رہنماوں نے ناکام کردیا۔ جس کی سزا بلوچ اور ہزارہ اقوام کو اجتماعی طور پر دی جارہی ہے۔ جہاں ایک طرف بلوچوں کو لاپتہ کرکے مسخ لاشوں کی صورت میں ویرانوں میں پھینکا جارہا ہے، تو وہیں کوئٹہ جیسے شہر میں جہاں ہر گلی کوچے میں فوج اور ایف سی کی چیک پوسٹ موجود ہیں۔ اس شہر میں انہیں کبھی خودکش دھماکوں میں مارا جاتا ہے، تو کبھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اب تک ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے تین ہزار سے زاید لوگوں کو شہید کیا جا چکا ہے، جن میں جوان، بزرگ، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، جس کی ذمہ داری مختلف مذہبی شدت پسند تنظیمیں قبول کرچکی ہیں اور اسی دہشت گردی کیخلاف کامریڈ جلیلہ حیدر تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہے۔

جلیلہ حیدر نے اپنے بھوک ہڑتالی کیمپ سے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے اہل بلوچستان سے اپیل کی کہ وہ اس احتجاج میں انکا ساتھ دیں اور ہزارہ نسل کشی کیخلاف آواز بلند کریں، ساتھ ہی انہوں نے پاکستانی آرمی چیف جنرل باجوہ سے درخواست کی کہ وہ کوئٹہ آئیں اور ایک فوجی جنرل کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عام انسان کی حیثیت سے سادہ لباس میں ایک عام شہری کی طرح آکر ان ماوں، بہنوں، بیٹیوں اور بیواوں سے ملیں اور انہیں بتائیں کے ان کے پیاروں کو کیوں مارا گیا۔

بحیثیت بلوچستانی ہم پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم دختر بلوچستان جلیلہ حیدر کی آواز بنیں اور انکے اس احتجاج میں انکا ساتھ دیں۔ لاپتہ بلوچوں کے لواحقین کو چاہیئے کہ وہ اپنا احتجاج اسی بھوک ہڑتالی کیمپ سے جاری رکھیں کیونکہ جو آواز کل تک انکی آواز تھی وہ آج ہم سب کے حمایت کی حقدار ہے، کل تک وہ ہمارے لیئے ریاستی بیانیئے کو چیلنج کررہی تھی، آج ہمیں اسکو یہ یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ ہم سب محکوم اقوام اس ظلم و بربریت کے خلاف ایک ہی صف میں کھڑے ہیں، کیونکہ جس ریاست سے وہ سوال کررہی ہے، وہ ریاست نہ سچ دیکھ سکتا ہے، نہ سن سکتا اور نہ ہی سچ کو سمجھ سکتا ہے۔ یہ ریاست صرف اور صرف دہشت گردی اور نسل کشی ہی جانتا ہے، جس کی مثال بنگلہ دیش کی تاریخ اور موجودہ بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا میں جاری انسانیت سوز ظلم و جبر سے لگایا جاسکتا ہے، جہاں انصاف کی خاطر جدوجہد کرنے والے لوگ بیرونی ممالک کے ایجنٹ، جبکہ عالمی سطح پر نامزد دہشت گرد، قومی ہیرو کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

اس امید کے ساتھ کے جلیلہ حیدر اپنے جائز حقوق کی جنگ میں فتحیاب ہوں اور ہزارہ برادری ریاستی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کا مزید کا شکار نہ بنیں ہم آج بھی مہذب دنیا اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے انصاف کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں