مزدور ابن مزدور اور یوم مزدور۔۔۔تحریر :مرزا شمریز خان

چند ماہ پہلے میرے ایک دوست کو اپنی آفس نما چارمنزلہ بلڈنگ میں صفائی کے لئے ایک مزدور کی ضروت پڑ گئی تو ہم ریلوے پھاٹک نمبر2کے پاس پہنچے جہاں روزانہ کی بنیاد پر الصبع سینکڑوں مزدور پہنچ جاتے ہیں جن میں بعض کی دیہاڑ ی لگ جاتی ہے اور اکثر دوپہر کے بعد واپسی کی راہ لیتے ہیں کئی ایک مجبور تو شام تک وہیں روزی کی آس میں سارا دن آتے جاتے لوگوں پر حسرت بھری نگاہیں ڈالتے رہتے ہیں،ہم وہاں پہنچے تو کئی لوگ ایک ساتھ ہمارے ارد گرد جمع ہو گئے جن کے چہروں سے بھی بھوک،ننگ،بے بسی، افلاس اور حسرت ٹپک رہی تھے کئی ایک کے تو چہرے بھی نیم مردہ تھے ان کے چہروں کی ہڈیاں یوں ابھری ہوئی تھیں نہ جانے وہ بیچارے کب سے فاقہ کشی کر رہے ہیںان نیم مردہ انسانوں کو دیکھ کر مزید اندازہ ہوا کہ کسی مزدور کی زندگی کتنی پر آسائش ہوتی ہے؟ ،انہیں کام بتایا تو کسی نے کچھ اور کسی نے کچھ معاوضہ بتایا اسی دوران 30/35سالہ شخص آگے بڑھا اور بولا کہ صاحب جو مرضی پیسے دے دینا مگر مجھے لازمی لے جائیں میں چار دن سے ادھر بے بیکار بیٹھا ہوں اور میرے بچے گھر میں بھوکے ہیں،میرے دوست نے معاوضہ طے کرنے کی ضد کی تو اس نے صرف 300روپے مانگے جو میرے نزدیک بھی کام کے حوالے سے بہت کم تھے میں نے اسے بتایا کہ بھائی کام زیادہ اور مشکل ہے بے شک بلڈنگ چھوٹی ہے مگر ہے تو چار منزلہ پھر بھی سوچ لو کیونکہ وہاں جانے کے بعد تمہیں کام ٹھیک کرنا ہو گا مگر وہ بولا سر جی یہ پیسے ہی میرے لئے بہت ہیں،ہم آفس پہنچ گئے اور وہ کام میں لگ گیا،چھتیں ،دیواریں ،فرش ،دروازے اور فرنیچر صاف کیا کئی چیزیں ایسی تھیں جیسے سیڑھیاں وغیرہ اسے پانی سے دھونا تھیں وہ سب اس نے انتہائی لگن اور جانفشانی سے کیا،وہ مزدور میری زندگی میں آنے والا پہلا مزدور تھا جسے کسی ایک کام کا بھی نہیں بتانا پڑا صرف شروع میں بتایا کہ یہ یہ کرنا ہے بعد اس کی ضروت ہی پیش نہ آئی،وہ کئی گھنٹے مسلسل کام کرنے کے بعد آفس آیا اور کہنے لگا صاحب کام چیک کر لیں اگر کوئی کمی ہے تو میں اسے مزید صاف کر دیتا ہوں ،اس نے سب کچھ ایک دم ٹھیک ٹھاک صاف کر دیا تھا تب میں نے کہا جاﺅ ٹھیک طرح منہ ہاتھ دھو کے آﺅ ،وہ واش روم سے واپس آیا تو چائے تیار تھی ہم نے اسے بھی دی تو اس نے ڈرتے ڈرتے سہمے لہجے میں چائے کا کپ پکڑا یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی گہری سوچ میں ہے کوئی بات کرتے تو وہ چونک سا جاتاتب میں نے پوچھا کہاں رہتے ہو ؟کب سے مزدوری کر رہے اور اتنے پریشان سے کیوں ہو؟تب وہ کچھ تﺅقف کے بعد وہ بولا وہ میرے راستے میں آنے والے ایک گاﺅں کا رہائشی تھا ،اس نے بتایا کہ وہ دو بھائی ہیں ان کا پاب بھی ہماری طرح محنت مزدوری کرتا تھا ان کی بڑی خواہش تھی کہ وہ ہمیں پڑھا سکے مگر ناکام رہا ان کی یہ خواہش معاشرتی ناہمواریوں کی بھینٹ چڑھ گئی،وہ ہمیں کھلاتے یا تعلیم دلواتے ،تھوڑ عرصہ ہم سرکاری سکول جاتے رہے جہاںنہ ٹاٹ تھے نہ کوئی اور سہولت ،پڑھائی بھی نام کی وہ تو پھر بھی ہمارے لئے فخر کی بات تھی مگر ہم تو اس سکول بھی جانا جاری نہ رکھ سکے،جب سکول جاتے اکثر اوقات بغیر ناشتہ کے جانا پڑتا دونوں بھائیوں کی جیب خالی ہوتی،گھر واپس آتے تو اکثر اباچارپائی پر ایسے لیٹے نظر آتے جیسے نہ جانے وہ کب سے سو رہے وہ تو شاید رات کو بھی نہیں سوتے ہوں ،اصل میںجس دن کام نہ ملتا وہ جلدی واپس آ جاتے اور یوں ہی پریشانی میں لیٹ کر سوچتے ہی رہتے،پھر وہ وقت آگیا جب ہمیں سکول جانے کی بجائے کام پر جانا پڑا،ہمارا پاب ہمارے بہتر مستقبل کی آس اور حسرت دل میں لئے اگلے جہان پہنچ چکا ہے جبکہ ہم دونوں بھائی پاب کی وراثت کی طرح مزدور ہیں میں شادی شدہ ہوں میرے تین بچے ہیں جبکہ چھوٹے بھائی کی شادی ابھی تک نہیں ہوئی، یہ باتیں کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں شبنم تیرتی نظر آئی جسے اس نے بڑے ضبط سے آنکھوں کے اندر ہی جذب کر رکھا تھا یہی وہ شبنم ہے جو خوشحال لوگوں کے لئے خوبصورتی کا سماں پیدا کرتی ہے اور ایسے لوگوں کے قیامت خیز سوچ کے سا تھ جنم لیتی ہے،اس نے بتایا کہ آج پیسے ملے ہیں تو گھر کھانے پینے کا سامان لے جاﺅں گا،اس کی ہیجانی کیفیت دیکھ کر میں نے بھی واپسی کا ارداہ کیا اسے ساتھ بٹھا کراس کے گاﺅں اتارا تو اسے حسب توفیق 500روپے دئیے کہ وہ ان سے گھر مزید سامان لیتا جائے اس نے انکار کیا مگر میرے اصرار پر اس نے پکڑ لئے،میں آگے نکلا تو میری سوچ کے دھارے سب اسی کی اور اس ملک میں رائج گھٹیا،بدبودار اور تعفن زدہ نظام کی طرف چلا گیا جہاں نہ جانے کتنے ایسے لوگ ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں اور کئی ایسے ہیں جن کے کتوں کی خوراک بھی گاڑیوں پڑ آتی ہے،یہ سرنڈ زدہ طبقہ ہم پر یوں مسلط ہیں جیسے ہم پیدا ہی ان کی غلامی کے لئے ہوئے ہیں،انہی کی ایوانوں تک رسائی ہے،انہی کے بچے،مامے چاچے۔بھانجے، بھتیجے ،چمچے اور درباری مختلف عہدوں پر فائز ہیں اس اعلیٰ طبقے کے بچوں کے لئے تعلیمی ادارے بھی الگ اور انتہائی مہنگے،شاندار اور کئی بہت بڑے
رقبے پر قائم ہیں جہاںاس طرز پر ان کی تعلیم مکمل کرائی جاتی ہے کہ وہی سول سروس ،فوج میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچتے ہیں، ان کے آباﺅ اجداد عام آدمیوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں،ہم ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں جہاں نہ اسلامی اقدار کا پاس ہے اور نہ ہی جمہوریت کی کوئی بہتر شکل موجود ہے جو اس کی تعریف پر پورا اتر سکے،یہاں زیادہ تر ایوانوں میں انہی کی رسائی کی ہے جنہوں نے اس ملک کے ساتھ،اس کے قومی اداروں کے کھلواڑ کیا،وہ غریبوں کے نام جاری فنڈز کو بھی باپ کا مال سمجھتے ہیں، یہ ایوان کو مقدس کہتے ہیں مگر اسی ایوان میں یہ وہ آئین سازی کرتے ہیں جو ان کے مفادات کو مزید پروان چڑھا سکے،ان کے لئے اقتدار کی رہداریاں مزید آسان ہو جائیں،مہذب ممالک نے ان قوانین کو اپنا کر اپنی عوام کو با عزت زندگی دینے کی ہر ممکن کوشش کی جنہیں خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروقؓ نے رائج کیا تھا ہم نے انہیں بھلا دیا غیروں نے انہیں اپنا لیا اسی وجہ سے وہ ترقی کی منازل عبور کر چکے ہیں اور ہم تنزلی ،پستی اور غلامی میں غوطے کھا رہے ہیں ،یہاں کیسا نظام رائج ہے جو نسل در نسل غلام ہیں ،جانوروں کے گلوں میں تو پھر بھی معمولی سا رسہ یا لوہے کی زنجیر ہوتی ہے مگر ان کے گلوں میں تو غلامی کا وہ طوق ان کے مسلمان بھائیوں نے ڈال رکھا ہے جس سے رہائی ان کے نصیب میں ہی نہیں ،دنیا بھر میں ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے کہیںاور تو ان کی حالت میں تبدیلی ممکن ہے مگر پاکستان ایسا شاید قیامت تک نہ ہو،یہاں مزدور ابن مزدور ہی پیداہوں گے جن کے نصیب اور مقدر میں کام،گالیاں،ذلت ،رسوائی،بھوک ،فاقہ کشی اوربے بسی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں