بیٹیاں درندگی کا شکار، ہم انصاف بھی نہ مانگے…تحریر : عنایت کابلگرامی

ابھی تو قصور کی معصوم زینب کی قبر کے پھول مرجائے بھی نہیں تھے کہ مردان میں چار سالہ اسماء کو درندہ صفت حوس کے پجاریوں نے زیادتی کے بعد قتل کردیا، اسماء کا کفن صحیح طور پر سوکھا بھی نہیں کہ چیچہ وطنی میں ایک اور ننھی کلی نور فاطمہ کو زیادتی کے بعد زندہ جلادیا گیا ، میڈیا پر اس واقعہ کے چرچے عام ہی تھے کہ مقبوضہ کشمیرمیں ایک آٹھ سالہ بچی آصفہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی اور انتہائی دردناک موت دی گئی ، یہ خبر ابھی تازہ ہی تھی کہ کراچی کے علاقے اورنگی ٹائون بلوچ گوٹھ کے رہائشی بھکا محمد کی بیٹی رابعہ کو ا توار کے روزا اغوا کیا گیا، اغوا کے دوسرے ہی روز ننھی رابعہ کی لاش منگھو پیر تھانے کے حدود نادرن بائی پاس کی جھاڑیوں میں سے ملی۔ابتدائی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے ۔ رابعہ کو گلا دبا کر مارا گیا ہے ، جسم پر تشدد کے نشانات کے ساتھ آنکھوں پر بھی زخم تھے۔

محمد رسول اللہ ۖ کی آمد سے قبل عرب میں ایک رواج عام تھا ، کسی کہ ہاں اگر بیٹی کی پیدائش ہوتی تو وہ اس کو اپنے لئے باعث شرم محسوس کرتا تھا ا ور اپنی شیرخواربچی کو صحرا میں لے جاکر قبر نما گھڑے میں زندہ دفن کردیا کرتاتھا ۔ آمد مصطفی ۖ کے ساتھ ہی یہ رسم دم توڑنے لگی ، نبوت کے اعلان کے بعد اسلام کے ماننے والے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین نے اس رسم کو یکسرمسترد کردیا ۔ مسلمان تو مسلمان غیر مسلموں میںبھی بیٹیوں کی قدردانی بڑھنے لگی۔

پیارے آقا محمد رسول اللہ ۖ نے مختلف احادیثوں میں خواتین کی اہمیت کے تبصرے فرمائے، کچھ کو قارئین کے نذر کرتا ہوں۔ بخاری و مسلم شریف میں آپ ۖ کا ارشادہے، جس کا مفہوم مبارک کچھ یوں ہے کہ تم میں سے اگر کسی کی دوبیٹیاں ہو اور وہ اس کی صحیح پرورش کریں شادی کرائیںاور بعد از شادی کہ ان کو میراث میں حصہ دیں،ان کا خیال رکھے تو اس شخص پر جنت واجب ہے ، بعض علمائے کرام سے یوں بھی سنا ہے کہ آپ ۖ نے یوں بھی فرمایا کہ وہ اور میں جنت میں ایک ساتھ ہونگے۔ یہی حکم بھائی کے لیے بھی ہے۔اس کے ساتھ ایک اور حدیث میں رسول اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا : بہترین مال وہ ہے جو تم اپنے بیویوں پر خرچ کرو۔

قارئین :خواتین کی اہمیت بتانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ کے ذہین میں اسلام نے خواتین کو کیا مقام دیا آجائے، گر چہ قرآن مجید اوراحادیث پاک میں اس کے علاوا اور بھی کئی مقامات میں خواتین کی عظمت و مرتبہ کا ذکر موجود ہیں۔ اسلام نے خواتین کو ایک اعلیٰ مقام عطا کیا بیٹی کے روپ میں بہن کی صورت میں بیوی کی شکل میں ان سب سے بڑھ کر ماں کا مرتبہ ” ماں کے قدموں تلے جنت ہے” قربان جائوں اس دین پر جس نے مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی عزت و احترام عطا کی ہے۔

مگر دور جہالت کے بعد گزشتہ چند سالوں سے حواء کی بیٹی کے ساتھ دور جہالت سے بھی ذیادہ دردناک مظالم رونما ہورہے ہیں، دور جہالت میں تو ننھی کلی کو زندہ درگور کیا جاتا تھا ، مگر اس دور میں حوس کے پجاری اپنے حوس کی بھوک کومیٹانے کے ساتھ درد ناک موت سے حواء کی بیٹی کو توختم کردے تھی ہے ،مگر اس کے والدین کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسے امتحان میں مبتلا کرجاتے ہیں کہ وہ زندہ ہوکر بھی زندہ نہیں رہ پاتے ۔

رابعہ جو گزشتہ اتوار 15اپریل کے دن اپنے گھر سے باہر کھیلنے کے غرض سے نکلی ،ایک معصوم سی ننھی کلی کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ آج اخری بار اپنے گھر سے زندہ نکل رہی ہے۔ دن دو بجے سے لیکر شام پانچ تک اس کی ماں یہیں سمجھ رہی تھی کہ وہ باہر کھیل کھود میں مصروف ہے ، جوں ہی پانچ بجے رابعہ کی ماں رابعہ کو ڈھونڈنے باہر نکلی بیٹی کو نہ پاکر سسر کے پاس پہنچی سسر نے بھی بلوچ گوٹھ کے گلیوں میں پوتی کی تلاش شروع کردی باپ کے آتے ہی مختلف مساجدوں میں گمشدگی کے اعلانات شروع کردئے گئے، نو بجے تھانے میں کمپلین کا فیصلہ ہوا اور دس بجے اورنگی ٹائون تھانے میں جاکر گمشد گی کی درخواست لگائی گئی ، ابتدا میں پولیس معمولی کیس سمجھ رہی تھی مگر صبح تک کوئی آثار نہیں ملے تو سبح دس بجے ایف آئی آر کادرج کی گئی ، رابعہ کے والدین اہلیان علاقہ کے ساتھ اور اورنگی ٹائون کی پولیس مسلسل رابعہ کی تلاش جاری رکھے ہوئی تھیں ۔

بروز پیر دوپہر تین بجے منگھو پیر تھانے کے حدود نادر ن بائی پاس کے قریب ایک خالی پلاٹ میں ایک بچی کی تشدد زدہ لاش کی اطلاع پولیس کو موصول ہوتی ہے پولیس ایمبولنس کے ساتھ جائے واقوع پر پہنچ کرلاش عباسی شہید ہسپتال منتقل کرتی ہے ۔ ڈاکٹرز نے پوس ماٹم اور ڈی این اے ٹیسٹ کرکے لاش پولیس کے حوالے کی پولیس نے بچی کے لواحقین کے بارے میں مختلف تھانوں سے رابطہ شروع کیا تو معلوم ہوا کہ اورنگی تھانے میں ایک چھ سالہ بچی کی گمشدی کی رپورٹ درج ہے ، اورنگی تھانے کو اطلاع دی گئی توانہوں نے رابعہ کے لواحقین کو ساتھ لے کر عباسی ہسپتال پہنچے رابعہ کے دادا اور والد نے اپنی بچی کو کپڑوں سے پہچانا ۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچی کے ساتھ زیادتی کے کچھ ٹریسیس ملے ہے ، مگر حتمی بات رپورٹ آنے کہ بعد کی جائے گی۔ رابعہ پر تشدد کے نشانات بھی ڈیر سارے تھے، پہچان میٹانے کے لیے چہرہ بھی بگاڑا گیا تھا ۔ لاش لے کر بھکا محمد اپنے گھر بلوچ گوٹھ آیا ۔

بروز منگل صبح تدفین کی تیاریاں کی جانی تھی کہ کچھ رشتہ داروں اور اہلیان علاقہ نے بھکا محمد کو انصاف دلانے کے لیے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا اور رابعہ کی لاش کو لے کر منگھو پیر روڈ نزد کٹی پہاڑی قصبہ کے مین سڑک پر رکھ دی اور انصاف کے لیے دوہائی دینے لگے ۔ اس دوران تین تھانوں کے ایس ایچ او ز ایس پی اورنگی اور ڈی اس پی منگھو پیر بھی احتجاجی مظاہرے کے مقام پر بھاری نفری کے ہمرا پہنچ گئے ۔ ابتدا میں مذاکرات سے کام لیا گیا ، پھر رابعہ کے والد پردبائو بھی ڈالا گیا، مگر جب پولیس نے دیکھا کہ کام نہیں بن رہا تو لاٹھی کا سہارہ لیا جس کے جواب مظاہرین نے پتھرائو شروع کردیا ، دو طرفہ پتھرائو کے بعد پولیس نے ہوائی فائرنگ سے مظاہرین کو منتشر کرنا چاہا مگر ان میں ہی کسی اہلکار نے سٹیٹ فائرکھول دیئے ،جس سے ایک شخص حافظ الیاس ولد علی حیدر موقع پر ہی جاں بحق ہوا اور دو افراد زخمی بھی ہوئے یہ وہ افراد ہے جن کو گولیاں لگی ، پتھرائو اور لاٹھی چارج سے زخمیوں کے تعداد بارہ ہیں۔

حافظ الیاس حیدر جو راہ گیر تھا احتجاج میں شرکت کے لیے نہیں آیا تھا بس اس راستے میں گزرتے ہوئے پولیس گردی کا شکار ہوا ،وہ بھی دو بیٹیوں اور چار بیٹوں کا باپ تھا ، اس کے دل میں بھی ارمان تھے کہ وہ اپنی بچیوں کی شادی کرایں سب ارمان دل میں رہ گئے ۔
ریاست ماں سمان ہوتی اگر ماں ہی ظالم بن جائے تو پھر دنیا میں کوئی بھی انسان محفوظ نہیں ، پولیس ریاست کا حصہ ہے اور یہ ریاست ایک جمہوری ملک ہے ، جمہوریت ہر کسی کو اپنا حق لینے کے لیے احتجاج کا حق دیتی ہیں، منگل کے روز بھی بلوچ گوٹھ کے باسی انصاف کے حصول کے لیے سڑک پر صرافہ احتجاج تھے کہ پولیس نے پولیس گردی کی مثال قائم کرتے ہوئے فائر کھول دیئے ، مظاہرین ابھی ایک زخم کو نہیں بھر پایئے تھے کہ پولیس نے ایک اور زخم دے دیا۔ مظاہرین نے یہ کہہ کر احتجاج ختم کیا کہ ” حواء کی بیٹیاں درندگی کا شکار اور ہم انصاف بھی نہ مانگے”۔ یااللہ توہی ہمارے بچے اور بچیوں کی حفاظت فرما: (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں