اِک نظرکرم ادھربھی…تحریر:محمدامین بٹ

ریاست جموں وکشمیرکی حکومت بیس رکنی کابینہ کابحری بیڑہ لئے اپنے باسیوں کی زندگی آسان بنانے کاکام جاری رکھے ہوئے ہے،اس بیڑے میں تین مشیران بھی شامل ہیں جوکہ دن رات نہ صرف عوام بلکہ سرکاری ادارہ جات کے حاضروریٹائرڈملازمین کے مسائل کوبھی یکسوکرنے کافریضہ سرانجام دینے کی اکثروبیشترباتیں کرتے ہیں لیکن لوکل کونسل ایمپلائزآزادکشمیرکے سول صدپچاس کے لگ بھگ ملازمین کورفتہ رفتہ گرانٹ ان ایڈکی سہولت سے محروم کرتے ہوئے 2021اور2022میں سرکارسے تنخواہ دستیاب نہیں ہوسکے گی کیونکہ 2015ء میں جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق ہرسال لوکل کونسل ملازمین کودس فیصد سے لیکرتیس فیصدتک گرانٹ ان ایڈسے محروم کیاجارہاہے جس کاآغازیکم جولائی2018سے ہوگا۔
قارئین محترم یہ تمہیداس لئے باندھی ہے کہ آپ بخوبی اندازہ لگاسکیں کہ گڈگورننس کااندازکیساہے آزادکشمیرحکومت لوکل کونسل کے اداروں کوببانگ دہل یہ کہہ رکھاہے کہ آپ اپنے وسائل خودپیداکریں جبکہ دوسری جانب فیڈریشن آف آل ایمپلائزلوکل کونسل آزادکشمیرکامؤقف ہے کہ جس طرح پاکستان بھرمیں لوکل کونسل ملازمین کی تنخواہوں کوحکومتی امدادکے ذریعے عمل میں لایاجاتاہے اسی طرح آزادکشمیرمیں یہ سلسلہ جاری رکھاجائے اوراگرآزادکشمیرحکومت وسائل کی بات کرتی ہے توآزادکشمیربھرمیں چونگیات کاسسٹم بحال کیاجائے علاوہ ازیں سیلزٹیکس سے ہماراجوحق بنتاہے وہ اگرگورنمنٹ ہمیں دے تومعاملات کافی حدتک یکسوہوسکتے ہے اس بابت ابھی تک آزادکشمیرحکومت کی جانب سے کوئی واضح پیغام سامنے نہیں آسکا، گزشتہ دنوں فیڈریشن کے زیراہتمام آزادکشمیربھرمیں ایک روزہ قلم وکام چھوڑہڑتال بھی کی تھی لیکن ایک بارپھرحکومت کی جانب سے انہیں اچھے مستقبل کی نویدسنائی گئی ،لوکل کونسل ایمپلائزکے چارسوریٹائرڈپنشنرزکی ماہانہ پنشن 55لاکھ روپے جبکہ سالانہ چھ کروڑساٹھ لاکھ روپے بنتی ہے اسی طرح کمیوٹیشن پنشن کی ادائیگی جوکہ ہرپنشنرکوالوداع کرتے وقت دی جاتی ہے وہ گیارہ کروڑپچاس لاکھ روپے واجب الاداہے یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ لوکل کونسل ایمپلائزبینک میں 13کروڑروپے فکسڈدیپازٹ رکھ کے منافع حاصل کررہے ہیں اوردوسری جانب 1650لوکل کونسل ایمپلائزکی ماہانہ تنخواہوں سے سکیل بی 1-تاBPS-20تک 200تادوہزارروپے کٹوتی ہورہی ہے یہ رقم کہاں جارہی ہے اوراس کامصرف کیاہے؟
لوکل کونسل کے ذمہ داران سے اگرپوچھاجائے تو ان کی جانب سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ منافع اورکٹوتی ملازمین کوپنشن کی ادائیگی میں استعمال ہوتے ہیں حالانکہ ایک سال سے زائدعرصہ بیت چکاہے کہ پنشنرزکمیوٹیشن پنشن اورماہانہ پنشن سے محروم چلے آرہے ہیں انہیں کبھی کبھارپرانے واجبات میں سے ایک آدھ ماہ کی پنشن دے دی جاتی ہے اوراس کے بعدپھرریٹائرڈپنشنرزکارونادھوناشروع ہوجاتاہے ،آج یہ تحریر آپ کے سامنے لانے کاسب سے بڑامقصدیہ ہے کہ گزشتہ دنوں میونسپل کارپوریشن میرپورکاایک خاکروب محمدریاض جوکہ پیرانہ سالی کیوجہ سے ریٹائرڈہوااوراسے محکمہ کی جانب سے ایک لاکھ پینتیس ہزارچارصدسترروپے کمیوٹیشن پنشن اداکی جانی تھی لیکن لمبی لمبی کروزرگاڑیوں پرچلنے والے بیوروکریٹس ، نئے وزراء کیلئے نت نئی گاڑیاں خریدنے کے خواہاں حکمران ایک خاکروب کواس کی ریٹائرمنٹ کے موقع پرادائیگی نہ کرسکے اوروہ مجبوروبے کس پنشنراس دنیاسے کمیوٹیشن کی وصولی کی حسرت اورعلاج معالجے کیلئے رقم نہ ملنے پر کوچ کرگیا۔اس غریب محنت کش کاخون کیاآزادکشمیرحکومت کے چیف ایگزیکٹو کے سرہے یاوزیربلدیات آزادکشمیریااس بیوروکریسی کے سرجواپنے پیٹ کی دوزخ بھرنے کیلئے سرکاری وسائل کوشیرمادرسمجھ کرہڑپ کرنے کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
قارئین محترم آزادجموں وکشمیرکے لوکل کونسل ایمپلائزبالخصوص بلدیاتی ملازمین آزادکشمیرکی حکومت میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں شہری ودیہی علاقوں کی صفائی ستھرائی کے علاوہ لوکل کونسل سے متعلقہ دیگرمعاملات چلاناانہی کاکام ہے اگرآزادکشمیرحکومت انہیں 2021-22میں سرکارکی تنخواہوں سے محروم کرنے کاپکااورمصمم ارادہ کرچکی ہے توپھرسرکارکی ملازمت کے کیامعنی تصورہوسکتے ہیں؟ضرورت اس بات کی ہے کہ آزادکشمیرحکومت اپنے اخراجات شاہی کوکنٹرول کرتے ہوئے شہری ،عوامی اورسرکاری ملازمین کے مسائل کویکسوکرنے کیلئے اپناکرداراداکرے، سرکاری ادارہ جات کے وسائل کوبندربانٹ کے نام پرفروخت کرنے کاجوخطرناک ترین کھیل شروع ہوچکاہے اسے فوری طورپرروکتے ہوئے مستقبل کیلئے اچھی پیش بندی کی جائے توممکن ہے کہ آزادکشمیرکے لوکل کونسل ایمپلائزکیساتھ ساتھ جوملازمین اکلاس سے فارغ کئے گئے ہیں ان کی بھی دادرسی ہوسکے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں