میاں نوازشریف سیاست سے تاحیات نااہل کیوں ہوئے ۔۔۔۔۔۔تحریر ؛ چودھری عبدالقیوم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے میاں نوازشریف کووزارت عظمیٰ سے نااہلی کے بعد سیاست سے بھی تاحیات آوٹ کردیاہے۔میاں نوازشریف 1983ءمیں پہلی بار جنرل ضیاءکے مارشل لاءدورکے گورنر پنجاب جنرل جیلانی کی حکومت میں صوبائی وزیرخزانہ بنے تھے۔بعد ازاں 1985ءمیں مارشل لاءکی چھتری تلے غیرجماعتی الیکشن کے نتیجے میں پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے ۔ اس طرح ایک فوجی جرنیل کی سرپرستی میں میاں نوازشریف آگے بڑھتے رہے اور تین بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے ۔لیکن بدقسمتی سے وہ ایک بار بھی وزارت عظمیٰ کی مدت پوری نہیں کرسکے۔انھیں پہلی بار 1993 میں صدر غلام اسحاق خاں نے برطرف کیاتھا سپریم کورٹ نے انھیں بحال بھی کردیا لیکن تب بھی یہ اپنی محذآرائی کیوجہ سے مدت پوری نہیں کرپائے تھے۔دوسری مرتبہ جنرل پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999ءکو نوازشریف کی حکومت ختم کرکے ملک میں مارشل لا لگادیا تھا۔اب تیسری بار سپریم کورٹ نے 28 جولائی 2017ءکو پانامہ کیس میں اقامہ رکھنے پر نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے نااہل کردیا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت ہمیشہ مشکلات کا شکار رہی۔لیکن نوازشریف کچھ زیادہ ہی مشکلات سے دوچار رہے اس میں کچھ قصور حالات و واقعات کا بھی ہوگا لیکن نوازشریف کو زیادہ تر مشکلات اپنی وجہ سے پیش آئیں ۔ جیسا کہ ان کا ماضی ظاہر ہے کہ وہ مارشل لاءکی پیداوار ہیں وہ بظاہر جمہوریت کے حامی نظر آتے ہیں۔لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کی سوچ آمرانہ ہو جاتی ہے حکومت ملنے کے بعد میاں نوازشریف اداروں اور جمہوریت کو مضبوط کرنا بھول جاتے ہیں ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو مضبوط سے مضبوط سے بنائیں۔اس کے لیے وہ دانستہ یا نادانستہ اداروں کیساتھ ٹکراﺅ کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔تیس سالوں سے اقتدار میں رہنے کے باوجود ان کی ہوس اقتدار میں کوئی کمی نہیں آئی شائد وہ ہمیشہ کے لیے اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں یا اپنے علاوہ کسی دوسرے کو وزیراعظم بننے کا اہل نہیں سمجھتے اس کے لیے انھوں نے مسلم لیگ ن کو خاندانی جماعت بنا لیا ۔ حالانکہ جمہوریت میں یہ ہوتا ہے کہ اپنے بعد دوسرے اہل لوگوں کو آگے لانا چاہیے ۔امریکہ جیسے بڑے جمہوری ملک جسے دنیا کی سپر پاور اور جمہوریت کا رول ماڈل کہا جاتا ہے وہاں کوئی کتنا بھی طاقتور اور اہل ہو اسے تیسری بار صدر بننے کا حق نہیں زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ صدر بن کر آٹھ سالوں بعد ہر صدر کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ باعزت طریقے کیساتھ ایوان صدر وہائٹ ہاو¾س سے رخصت ہو جائے لیکن اس کے برعکس پاکستان میں نوازشریف سمیت کوئی سیاستدان بھی یہ نہیں چاہتا کہ وہ باعزت طریقے سے اقتدار چھوڑ دے۔خاص طور پر نوازشریف جنھوں نے تیس سال سے زیادہ عرصہ تک اقتدار کے مزے لوٹے۔ اصولی اور اخلاقی طور پر انھیں بہت پہلے باعزت طور پر سیاست سے ریٹائر ہوجانا چاہیے تھا۔لیکن وہ آج بھی پہلے سے کہیں زیادہ اقتدار کی ہوس میں مبتلا ہیں ۔ دوسرا وہ اقتدار کے حصول کے لیے کسی بھی حدتک چلے جاتے ہیں حتیٰ کہ پاکستان کیخلاف باتیں کرنے والے محمود اچکزئی اور اسفندیارولی خاں جیسے لوگوں کیساتھ بھی اتحاد کرلیتے ہیں ۔ جنھوں نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ آج بھی ؛پاکستان زندہ باد؛ کا نعرہ لگانے کو تیار نہیں نواز شریف نے آج تک کشمیر میں تحریک آزادی کی حمایت کرتے ہوئے کبھی مودی کیخلاف بیان نہیں دیا۔ایم کیوایم کے پاکستان مخالف نعروں کی کبھی مذمت نہیں کی ۔نوازشریف کی حکومت کے دوران ڈان لیکس کا نازک معاملہ پیدا ہوا ان کی حکومت نے الیکشن لڑنے کے لیے امیدوار کے حلف نامے سے ختم نبوت ﷺ کی عبارت میں تبدیلی کی ناکام کوشش کی۔کچھ اتحادیوں اور غیرملکی قوتوںکی خوشنودی کے لیے اسلامیات کے نصاب میں تبدیلیاں تک کیں ۔دیکھا گیا کہ میاں نوازشریف نے اپنے مینڈیٹ کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کی۔ جسے عام محب وطن لوگ خاص طور پر قومی سلامتی کے ادارے پسند نہیں کرتے۔یہاں سب سے زیادہ اہم بات جو میاں نوازشریف کی سیاست سے تاحیات ناہلی کا سبب بھی بنی وہ یہ ہے کہ 28 جولائی 2017ءکو جب سپریم کورٹ نے میاں نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے نااہل کردیا تو انھوں نے وزارت عظمیٰ تو چھوڑ دی لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے عدلیہ کیساتھ باقاعدہ محاذآرائی شروع کرکے عدلیہ کیخلاف تحقیرآمیز رویہ اختیا کیا ۔اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ انھوں نے اپنے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کو کچھ اداروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک سازش قراردیا حالانکہ وفاق کے علاوہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ان کی جماعت مسلم لیگ ن حکومت کررہی ہے ۔عدالتوں کے فیصلوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔فیصلہ ہمیشہ دو فریقوں کے درمیان ہوتا ہے جو کسی ایک فریق کے حق میں ہوتا ہے تو وہی فیصلہ دوسرے فریق کے خلاف ہوتا ہے لیکن عدالت کا فیصلہ بحرحال دونوں فریقوں کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات فیصلے غلط بھی ہوسکتے ہیں لیکن عدالتیں فیصلے کسی کی خواہش کے مطابق کرنے کی پابند نہیں ہوتی ہیں۔عدلیہ کا اپنا نظام ہے اور وہ فیصلے کرنے میں آزاد ہیںانھیں یہ ذمہ داری اور مینڈیٹ حکومت کیساتھ آئین اور قانون نے دیا ہے۔عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرنا ہر شہری کا فرض ہوتا ہے۔لیکن میاں نوازشریف نے اپنے خلاف فیصلے کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی بجائے عدلیہ کیخلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دی۔جس کا نتیجہ کسی طور بھی اچھا نہیں ہونا تھا۔عدلیہ کی تحقیر اور محاذ آرائی میاں نوازشریف کی غلطی تھی۔جو انھیں نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن تقدیر کا لکھا کسی طور نہیں ٹل سکتا۔کاش میاں نوازشریف اپنے ماضی سے سبق سیکھتے تو شائد وہ وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے بعد سیاست سے تاحیات نااہل نہ ہوتے ۔لیکن اب کاش کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں